کابل (کیو این این ورلڈ)افغان طالبان کی سپریم کورٹ کے اعلان کے مطابق صوبہ خوست میں ایک ہی روز کے دوران کم از کم 36 افراد کو سزا کے طور پر سرعام کوڑے مارے گئے۔ سزائے کوڑوں کے علاوہ ان افراد کو ایک سے دو سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ سزا پانے والوں میں ہر فرد کو 10 سے 39 کوڑے لگائے گئے۔
افغان میڈیا کے مطابق افغان سپریم کورٹ نے 23 جنوری کو بیان میں بتایا کہ ماتحت عدالتوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں کم از کم 31 افراد کو مختلف الزامات کے تحت کوڑے مارے۔ یہ سزائیں کابل، فاریاب، بلخ، ننگرہار اور ہرات میں دی گئی ہیں۔
طالبان حکام نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ سال 2025 کے دوران افغانستان بھر میں مختلف الزامات کے تحت کم از کم 6 افراد کو سزائے موت دی گئی جبکہ ایک ہزار 118 افراد کو کوڑے مارے گئے۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ملک میں قانون و انصاف کے قیام کے لیے دی جا رہی ہیں، تاہم انسانی حقوق کے عالمی ادارے اس عمل پر شدید تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
یہ کارروائیاں طالبان کے سخت شرعی قوانین کے نفاذ کی کڑی مثال ہیں، اور ان پر بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید جاری ہے کہ سزائیں اکثر عوامی طور پر دی جاتی ہیں تاکہ خوف اور قابو قائم رکھا جا سکے۔