کوئٹہ(ویب ڈیسک) 2025 بویبلوچستان حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، کامیابیاں اور چیلنجز
سال 2025 اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور یہ سال بلوچستان حکومت کی مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے متعدد اہم اقدامات، نمایاں کامیابیوں اور کچھ شعبوں میں سست روی کا امتزاج رہا۔ حکومت نے تعلیم، ٹرانسپورٹ، شہری ترقی، زراعت، روزگار، فلاحی پروگراموں اور ماحولیاتی اقدامات میں قابل ذکر پیش رفت کی، جن کے مثبت اثرات صوبے کی سماجی و معاشی صورتحال پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ تاہم صحت، مواصلات اور کچھ دیگر منصوبوں میں تاخیر نے انتظامی چیلنجز کو اجاگر کیا ہے۔
یہ سال بلوچستان کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کا سال ثابت ہوا، جہاں عوامی فلاح کو ترجیح دی گئی۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت نے عوام دوست پالیسیوں پر عملدرآمد کیا، جس سے شہریوں میں امید کی نئی کرن نظر آئی۔
ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی میں اہم پیش رفت
بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں عوامی ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے کے لیے گرین بس پروجیکٹ میں توسیع کی اور سال بھر میں متعدد نئی بسیں شامل کی گئیں۔ دسمبر میں وزیراعلیٰ نے 15 سے 17 نئی گرین بسیں اور 5 پنک بسیں شامل کر کے سروس کا افتتاح کیا، جو خواتین کے لیے خصوصی طور پر مختص ہیں۔ یہ پنک بسیں مکمل طور پر خواتین عملے کے ساتھ چلائی جا رہی ہیں، جو خواتین کو محفوظ اور باوقار سفر کی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ عوام نے اس اقدام کو بے حد سراہا ہے۔
اسی طرح کوئٹہ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت شہر کی مرکزی سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، غیر قانونی پارکنگ کا خاتمہ کیا گیا اور ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنایا گیا، جس سے شہر کی خوبصورتی اور رہائش میں واضح بہتری آئی۔ یہ اقدامات شہری زندگی کو آسان بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
شہر کے اندر اور اطراف میں سمگلنگ کیخلاف کارروائیاں
حکومتی اداروں نے سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے لیے مؤثر آپریشنز کیے۔ شہر اور اطراف میں متعدد کارروائیاں کی گئیں، سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی تیز کی گئی۔ نتیجتاً غیر قانونی تجارت میں نمایاں کمی آئی، جو معاشی استحکام کے لیے اہم ہے۔ یہ کوششیں صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
شعبہ تعلیم میں نمایاں کارکردگی
تعلیم بلوچستان حکومت کی ترجیحی فہرست میں سرفہرست رہا۔ سال 2025 میں تعلیم کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے، جن سے سکولوں کی بحالی، اساتذہ کی تنخواہوں میں بہتری اور طلبہ کے وظائف پر توجہ دی گئی۔ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت ہزاروں طلبہ کو سکالرشپس دی گئیں، جبکہ بے نظیر بھٹو سکالرشپ پروگرام کے ذریعے 200 سے زائد طلبہ کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع ملے، جن میں آکسفورڈ جیسی عالمی یونیورسٹیوں میں داخلہ شامل ہے۔
بند سکولوں کی بحالی کا عمل جاری رہا، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور اقلیتی برادری، شہدا کے بچوں اور خواجہ سراؤں کے لیے خصوصی گرانٹس مختص کی گئیں۔ دور دراز علاقوں میں کتاب گاڑی منصوبہ اور ارلی وارننگ سسٹم جیسی اقدامات سے سکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مزدور طبقے کے طلبہ کو بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے مواقع دیے گئے۔ یہ تمام اقدامات تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنا رہے ہیں اور مستقبل کی نسلوں کے لیے روشن امکانات پیدا کر رہے ہیں۔
نوجوانوں کو روزگار اور تربیت کے مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات
نوجوانوں کی بااختیار بنانے کے لیے بلوچستان یوتھ پالیسی متعارف کرائی گئی، جس کے تحت 30,000 نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا۔ اب تک 6,000 سے زائد نوجوانوں کو بیرون ملک نوکریاں مل چکی ہیں۔ یوتھ ریسورس سینٹر قائم کیے گئے تاکہ پیشہ ورانہ تربیت اور رہنمائی دی جا سکے۔ اگرچہ فلائنگ کلب کی بحالی کا ذکر کیا گیا، تاہم اس پر عملی پیش رفت محدود رہی۔ یہ اقدامات نوجوانوں کو چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔
زراعت اور ماحولیاتی اقدامات
زرعی شعبے میں سب سے بڑی کامیابی 27,000 سے زائد زرعی ٹیوب ویلز کو سولر سسٹم پر منتقل کرنا رہا، جو پائیدار کاشتکاری کو فروغ دے رہا ہے۔ کسانوں کے لیے ٹریکٹرز اور مشینری کی فراہمی کا اعلان ہوا، مگر عمل شروع نہ ہو سکا۔ نیشنل کلائمیٹ چینج سٹریٹیجی مکمل کر لی گئی، جس پر جلد عملدرآمد متوقع ہے۔ یہ اقدامات ماحولیاتی تحفظ اور زرعی پیداوار بڑھانے میں اہم ہیں۔
صحت اور مواصلاتی شعبوں میں سست روی
صحت کے شعبے میں 10 ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر چلانے کا فیصلہ تاحال عملی شکل نہ اختیار کر سکا۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور بنیادی سہولیات کی کمی برقرار رہی۔ مواصلات کے لیے 50 ارب روپے مختص تھے، مگر عملی اقدامات محدود رہے۔ یہ تاخیر عوام کے لیے چیلنجز کا باعث بنی۔
بی آئی ایس پی کی رقم میں 27 فیصد اضافہ اور دیگر فلاحی اقدامات
فلاحی پروگراموں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی رقم میں 27 فیصد اضافہ کیا گیا، جو مستحق خاندانوں کی معاونت بڑھا رہا ہے۔ کفالت پروگرام جاری رہا۔ صحافیوں کے لیے کوئٹہ میں ہاؤسنگ سکیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا، جس سے آئندہ سال فلیٹس فراہم ہوں گے۔
مجموعی جائزہ اور مستقبل کی توقعات
سال 2025 میں بلوچستان حکومت کی کارکردگی کو مجموعی طور پر جزوی کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ اصلاحات، پنک اور گرین بس سروس، تعلیم کی بہتری، سولرائزیشن، سمگلنگ کے خلاف کارروائیاں اور فلاحی اضافہ مثبت پہلو ہیں۔ تاہم صحت، مواصلات اور زراعت کے کچھ منصوبوں میں تاخیر نے بہتر حکمت عملی کی ضرورت اجاگر کی۔
اگر حکومت موجودہ رفتار برقرار رکھتے ہوئے سست شعبوں پر توجہ دے تو آنے والے سالوں میں بلوچستان کی ترقی مزید تیز ہو سکتی ہے۔ عوام کو امید ہے کہ 2026 مزید بہتر اقدامات کا سال ہو گا۔