لاہور (کیو این این ورلڈ) سال 2025 پاکستانی سینما کے لیے ایک تاریخی اور یادگار سال ثابت ہوا ہے، جہاں بڑے ستاروں کی واپسی اور منفرد کہانیوں نے شائقین کے دل جیت لیے۔ اس سال فلمی صنعت نے نہ صرف مقامی سطح پر ریکارڈ بزنس کیا بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی اپنی بھرپور پہچان بنائی۔ رواں برس کی کامیاب ترین فلموں میں ہمایوں سعید اور ماہرہ خان کی ‘لو گرو’ سرِفہرست رہی، جو بلاشبہ سال کی سب سے بڑی بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔ اس فلم کے ذریعے ہمایوں سعید اور ماہرہ خان کی جادوئی جوڑی نے ایک بار پھر باکس آفس پر اپنی حکمرانی ثابت کر دی۔ اسی طرح فواد خان اور ماہرہ خان کی فلم ‘نیلوفر’ نے بھی شائقین کے طویل انتظار کا بھرپور صلہ دیا، جس کی کلاسک کہانی اور شاندار اداکاری نے اسے دیگر فلموں سے ممتاز بنایا۔
رفیع راشدی کی فلم ‘دیمک’ سال کا سب سے بڑا سرپرائز ثابت ہوئی، جس کی کامیابی نے نئے تجربات کرنے والے فلم سازوں کے لیے نئی راہیں کھول دیں۔ ایکشن کے شوقین افراد کے لیے شاز خان کی ‘دی مارشل آرٹسٹ’ ایک بہترین تحفہ ثابت ہوئی، جس نے اپنی بہترین تکنیک اور جاندار فائٹ سینز کی بدولت ناقدین سے خوب داد سمیٹی۔ اسی طرح شہزاد رفیق کی فلم ‘ویلکم ٹو پنجاب’ نے اپنے تخلیقی معیار کی بدولت ٹاپ لسٹ میں جگہ بنائی اور باکو فلم فیسٹیول میں بین الاقوامی ایوارڈ جیت کر پاکستانی ثقافت کا نام روشن کیا۔ مجموعی طور پر سال 2025 پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی اور ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے جس نے مستقبل کے لیے نئی امیدیں وابستہ کر دی ہیں۔