لاہور/سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف مدثر رتو) لاہور کے علاقے لوئر مال (بلال گنج) میں بسنت کے تہوار کے دوران ایک انتہائی افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں پتنگ بازی کے دوران چھت سے گر کر 16 سالہ نوجوان اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔ حادثہ 8 فروری 2026 کو بسنت کی دوسری رات اس وقت پیش آیا جب نوجوان پتنگ اڑانے میں مصروف تھا کہ اچانک توازن کھو بیٹھنے کے باعث چھت سے نیچے جا گرا۔ ریسکیو 1122 اور ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق، نوجوان کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گیا۔ متوفی کی شناخت عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو سیالکوٹ کا رہائشی تھا اور خاص طور پر بسنت کا تہوار منانے کے لیے لاہور آیا ہوا تھا۔ ریسکیو حکام نے ضروری قانونی اور طبی کارروائی کے بعد لاش کو مردہ خانہ منتقل کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ لاہور میں تقریباً 25 سالہ طویل پابندی کے خاتمے کے بعد 6 سے 8 فروری تک بسنت منائی جا رہی ہے، تاہم یہ جشن کئی خاندانوں کے لیے ماتم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں پتنگ بازی سے جڑے حادثات، کرنٹ لگنے اور چھتوں سے گرنے کے واقعات میں اب تک 4 سے 6 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے سیفٹی راڈز کے استعمال اور کیمیکل ڈور پر پابندی سمیت سخت ایس او پیز جاری کیے گئے تھے، مگر عوامی سطح پر ان قواعد کی سنگین خلاف ورزیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ عبداللہ کا جاں بحق ہونا ایک بار پھر اس خطرے کی نشاندہی کرتا ہے کہ حفاظتی تدابیر کے بغیر چھتوں پر پتنگ بازی کس قدر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ سیالکوٹ سے لاہور جا کر بسنت مناتے چھت سے گر کر جانبحق ہونے والے 16 سالہ لڑکے عبداللہ کا تعلق کوٹلی لوہاراں کے گاوں سے بتایا جا رہا ہے جو ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔
