کوئٹہ/بلوچستان ( کیو این این ورلڈ) بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے 48 گھنٹوں کے دوران متعدد دہشت گردانہ حملوں کو ناکام بناتے ہوئے 108 عسکریت پسند ہلاک کر دیے۔ بی ایل اے کے 61 دہشت گرد مارے گئے جبکہ فتنہ الہندوستان کے 67 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔
ابتدائی حملہ کوئٹہ کی سریاب روڈ پر پولیس وین پر ہوا، جس کے بعد نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر سمیت 12 مقامات پر فائرنگ اور خودکش حملے کیے گئے۔ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں سے دہشت گرد پسپا ہوئے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ اس دوران 10 سکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔
حکام کے مطابق مارے جانے والے دہشت گرد افغانستان میں قائم محفوظ ٹھکانوں سے ہدایات حاصل کر رہے تھے اور حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارتی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ تھا۔ گوادر میں ایک واقعے میں بلوچ مزدور خاندان کے 5 افراد، جن میں 3 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں، بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان کے فیلڈ نیٹ ورک، اسلحہ رسد اور مقامی بھرتیوں کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ صوبائی حکومت نے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے جبکہ حساس اضلاع میں جزوی موبائل سروس معطل ہے۔ حکام نے یقین دلایا کہ شہری علاقوں میں معمولات زندگی بحال ہیں اور قومی شاہراہیں کھولی جا چکی ہیں۔