اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے پیشِ نظر قوم سے اپنے اہم خطاب میں بڑے فیصلے سناتے ہوئے سرکاری و نجی دفاتر میں 50 فیصد عملے کے لیے ’ورک فرام ہوم‘ اور تعلیمی اداروں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کے باعث آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہوگا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اہل خانہ کی شہادت پر حکومت اور عوام کی جانب سے بھرپور مذمت اور دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس آزمائش کی گھڑی میں سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین اور ترکیہ سمیت تمام برادر اسلامی ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔

داخلی سلامتی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں افغانستان سے دہشت گردی اور دراندازی کا سامنا ہے، جس کا ہماری بہادر افواج آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھرپور جواب دے رہی ہیں۔ انہوں نے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔

توانائی بچت اور عوامی ریلیف کے لیے وزیراعظم نے مندرجہ ذیل اہم اقدامات کا اعلان کیا:

1۔ ورک فرام ہوم اور دفتری اوقات: انتہائی ضروری خدمات کے علاوہ تمام سرکاری و نجی دفاتر کا 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا۔ ہفتے میں صرف چار دن کام ہوگا اور ایک اضافی چھٹی دی جائے گی، تاہم اس کا اطلاق بینکوں، صنعت اور زراعت پر نہیں ہوگا۔
2۔ تعلیمی ادارے: تمام اسکول فوری طور پر دو ہفتوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جائے گا۔
3۔ ایندھن کی بچت: سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے پیٹرول میں 50 فیصد کٹوتی کر دی گئی ہے اور 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایمبولینس اور عوامی بسیں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
4۔ کفایت شعاری مہم: وفاقی وزراء، مشیران اور معاونین دو ماہ تک تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کی دو دن کی تنخواہ عوامی ریلیف فنڈ میں جمع کی جائے گی۔
5۔ پابندیاں: سرکاری عشائیوں، افطار پارٹیز اور ہوٹلوں میں سیمینارز پر مکمل پابندی ہوگی۔ تمام اجلاس آن لائن منعقد کیے جائیں گے اور وزراء کے غیر ضروری بیرونِ ملک دوروں پر بھی پابندی عائد رہے گی۔

وزیراعظم نے اشرافیہ اور صاحبِ ثروت افراد سے اپیل کی کہ وہ اس کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں اور قربانی پیش کریں۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو متنبہ کیا کہ قانون کا آہنی ہاتھ ان سے سختی سے نمٹے گا۔ شہباز شریف نے قوم کو یقین دلایا کہ اگرچہ معاشی فیصلے مشکل ہیں، لیکن حکومت کی پوری کوشش ہے کہ غریب عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے اور معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے