کینٹکی ( کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ جیت چکا ہے تاہم وہ ابھی وہاں سے جلد نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ کینٹکی میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ کے اسٹریٹجک مقاصد پوری طرح حاصل نہیں ہو جاتے، امریکی افواج ایران سے واپس نہیں آئیں گی۔
صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 11 دنوں کے دوران امریکی افواج نے ایران کی فوجی طاقت کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ ان کے بقول ایرانی بحریہ کو سمندر برد کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی فضائیہ کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ایران کے 58 بحری جہاز تباہ اور 31 بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی جا چکی ہیں۔
عالمی تیل بحران اور قیمتوں میں اضافے سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) نے اپنے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بڑے اقدام سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بہتر ہوگی اور صارفین کو بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ریلیف ملے گا۔
امریکی صدر نے مزید واضح کیا کہ وہ امریکی اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کو بھی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے استعمال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ہماری ترجیح عالمی توانائی کی مارکیٹ کو مستحکم کرنا اور امریکی عوام پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کرنا ہے، اور اس مقصد کے حصول تک امریکہ اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔