کراچی (ویب ڈیسک)کراچی کے علاقے منگھوپیر میں سردرد کی شکایت پر نجی اسپتال جانے والی عمر رسیدہ خاتون کو مبینہ طور پر اتائی ڈاکٹروں نے غلط انجکشن لگا دیا، جس کے باعث اس کی حالت بگڑ گئی اور دایاں بازو ناکارہ ہو گیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق پختون آباد میں قائم نجی اسپتال میں زرسانگہ بی بی کو علاج کے دوران ڈرپ اور کینولا لگایا گیا، جس کے بعد بازو میں سوجن اور انفیکشن پیدا ہو گیا۔ اہل خانہ کے بار بار توجہ دلانے کے باوجود اسپتال کے عملے نے شکایات کو نظرانداز کیا۔ بعد ازاں ایک اور انجکشن لگانے سے حالت مزید خراب ہو گئی اور بازو پر چھالے پڑ گئے۔

متاثرہ خاتون کو دوسرے نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انفیکشن پھیلنے کی تصدیق کی۔ خاتون تاحال زیرِ علاج ہے اور اس کا دایاں ہاتھ شدید متاثر ہو چکا ہے۔

ایس ایچ او زبیر نواز کے مطابق شہری کے بیان پر مقدمہ درج کر کے اسپتال سے عبدالقادر، علی رضا اور شاہد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ گرفتار افراد میں سے دو اتائی ڈاکٹر ہیں جو خود کو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ظاہر کر کے غیر قانونی طور پر اسپتال چلا رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسپتال سیل کرنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر اور ہیلتھ کیئر کمیشن کو مراسلے ارسال کیے جا رہے ہیں جبکہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے