فائر سیفٹی کیا ہے؟
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے شارٹ سرکٹ کے حوالے سے حالیہ احکامات کے بعد یوں محسوس ہوا جیسے اس سے پہلے تمام ادارے سو رہے تھے اور ان کے احکامات کے بعد اچانک ہر طرف فائر سیفٹی پر کام ہونے لگا۔ سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا، ہر طرف بیانات کی بھرمار ہونے لگی ہے، لیکن کسی بھی ایمرجنسی ریسپانس والے ادارے نے اپنی سابقہ کارکردگی کے حوالے سے کوئی تفصیلی بیان نہیں دیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سب وزیر اعلیٰ کے حکم کے منتظر تھے کہ کب حکم ملے اور ہم کام شروع کریں۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں ادارے متحرک ہیں، جس کا بڑا کریڈٹ ریسکیو 1122 کے ادارے کو جاتا ہے جو اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں نبھانے میں ماہر ہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ کچھ دیگر متعلقہ ادارے سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں فائر سیفٹی کو عموماً صرف ایک فائر ایکسٹنگوشر (سلنڈر) تک محدود سمجھا جاتا ہے، حالانکہ قانون کی نظر میں فائر سیفٹی ایک مکمل، منظم اور مسلسل عمل ہے، جس کا مقصد آگ لگنے سے پہلے روک تھام، آگ کے دوران تحفظ، اور آگ کے بعد جانی نقصان کو کم سے کم کرنا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم فائر سیفٹی کو حادثے کے بعد یاد کرتے ہیں، جبکہ سیفٹی ایکٹ کے مطابق یہ حادثے سے پہلے کی ذمہ داری ہے۔

فائر سیفٹی کی قانونی تعریف
پنجاب فائر سیفٹی ایکٹ اور بلڈنگ کوڈز کے مطابق فائر سیفٹی سے مراد ایسے تمام انتظامات، آلات، تربیت اور حفاظتی اقدامات ہیں جن کے ذریعے آگ لگنے کے امکانات کو کم کیا جائے، آگ کی صورت میں انسانی جانوں و املاک کو محفوظ بنایا جائے، اور بروقت انخلاء ممکن ہو۔ یعنی فائر سیفٹی صرف آگ بجھانے کا عمل نہیں بلکہ آگ سے پہلے کا شعور ہے۔

سیفٹی ایکٹ کے بنیادی نکاتسیفٹی ایکٹ کے مطابق ہر کمرشل، صنعتی، تعلیمی اور رہائشی عمارت کے لیے درج ذیل اقدامات لازمی ہیں:

1.آگ سے بچاؤ (Fire Prevention):ناقص وائرنگ کا خاتمہ، آتش گیر مواد کا محفوظ استعمال، مشینری اور گیس سسٹم کی باقاعدہ جانچ اور اوور لوڈنگ سے اجتناب وہ اقدامات ہیں جو آگ لگنے سے پہلے کیے جاتے ہیں۔
2.آلات کی فراہمی (Fire Protection Equipment): ایکٹ کے مطابق فائر ایکسٹنگوشر، فائر الارم سسٹم، اسموک ڈیٹیکٹر، فائر ہوز اور اسپرنکلر سسٹم ہر عمارت میں اس کی نوعیت کے مطابق لازمی ہیں۔ قانون کہتا ہے کہ صرف آلات کی موجودگی کافی نہیں، ان کا ہر وقت فعال ہونا بھی ضروری ہے۔
3. ایمرجنسی راستے (Emergency Exits): ہنگامی راستے واضح ہوں، بند نہ ہوں اور ان پر کوئی سامان نہ رکھا جائے۔ اکثر سانحات میں ہلاکتیں آگ سے نہیں بلکہ راستے بند ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں، جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
4. تربیت اور فائر ڈرل: عملے کو فائر سیفٹی کی تربیت دینا اور باقاعدہ فائر ڈرل کروانا لازم ہے، کیونکہ تربیت کے بغیر جدید آلات بھی بے کار ہو جاتے ہیں۔
5. انسپکشن اور نگرانی: فائر سیفٹی انسپکشن باقاعدہ ہونی چاہیے اور رپورٹس شفاف ہونی چاہئیں۔ یہ محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

ذمہ داری اور معاشرتی رویہ
سیفٹی ایکٹ کے مطابق فائر سیفٹی صرف حکومت کی نہیں بلکہ عمارت کے مالک، منتظم اور استعمال کنندہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی عمارت غیر محفوظ ہے تو اس کا مالک، انسپکشن کرنے والا افسر اور پورا نظام جوابدہ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فائر سیفٹی کو خرچہ اور غیر ضروری بوجھ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ انسانی زندگی میں بہترین سرمایہ کاری ہے۔

قانون کی نظر میں انسانی جان سب سے قیمتی ہے اور کسی بھی کاروبار یا منافع سے بڑھ کر ہے۔ فائر سیفٹی کوئی وقتی مہم نہیں بلکہ زندگی کو محفوظ بنانے کا مستقل نظام ہے۔ اگر ہم سیفٹی ایکٹ کی روح کو سمجھ لیں تو سانحات کم ہو سکتے ہیں اور جانیں بچ سکتی ہیں۔ یاد رکھیں، ابھی تک فائر سیفٹی ڈیٹا کے حوالے سے کوئی مناسب بندوبست موجود نہیں، جو کہ ایک بڑا خلا ہے۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے ورنہ ہر آگ کے بعد ہم یہی سوال دہراتے رہیں گے: فائر سیفٹی تھی کیا؟ اور کیوں نہیں تھی؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے