اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی کو پاکستان کا امن چھیننے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور افغانستان کو ہر صورت ایک پرامن ہمسایہ بننا ہوگا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی کہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں، لیکن افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور سرحدی خلاف ورزی کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھرپور اور فوری جواب دیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں افغان طالبان کی فورسز کو سخت جواب دیا گیا اور انہیں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان اس وقت افغان طالبان رجیم کو جواب دے رہا ہے اور دشمن کے ہر اقدام کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
جیونیوز کے پروگرام "آج شاہ زیب زادہ کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ بھارت، جس کے پاس فوج، طیارے اور ہتھیار تھے، کی حالت اس سے بھی خراب ہوئی، اور پاکستان کے بازار اور مساجد میں کسی بھی طرح کے دھماکے بالکل بھی برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے عوام کے امن کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے اور افغان طالبان رجیم کو واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر وہ دہشت گردی جاری رکھیں تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے ہر سطح پر افغان طالبان سے بات چیت کی، انہیں سمجھایا گیا، لیکن طالبان کی جانب سے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا گیا۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ جیسا جواب مشرقی سرحد پر بھارت کو دیا گیا تھا، ویسا ہی بھرپور جواب مغربی سرحد پر بھی دیا جائے گا۔ پاکستان نے عالمی سطح پر افغانستان میں جاری غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں کے حوالے سے تشویش اور شکایات بھی پیش کی ہیں، تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔