اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) غلامی قبول نہیں کریں گے، نواز اور شہباز کریں تو انہیں مبارک، مولانا فضل الرحمان
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نکل سکتا ہوں تو نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف بھی نکل سکتا ہوں۔ اگر وہ غلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم غلامی قبول نہیں کریں گے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے پیس بورڈ میں شمولیت، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور حکومت کے فیصلوں پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیس بورڈ کے نکات میں تبدیلیاں ہو چکی تھیں تو پھر وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی۔ ٹرمپ اسرائیل کی جارحیت کو تقویت دے رہا ہے اور حماس کو کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکا نے افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کیا، بنگال کو بھی نہیں بچایا اور آئندہ بھی کسی کو نہیں بچائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل ایران پر حملے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا، اس کے عزائم ابتدا سے واضح ہیں مگر اس کے باوجود ہم ایسے فورمز کی طرف دوڑ رہے ہیں جن کا آغاز ہی دھمکیوں سے ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے نہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی کابینہ کو۔ خود وزیر خارجہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ٹرمپ کے ابتدائی نکات طے شدہ نکات سے مختلف تھے، تو کیا بغیر پڑھے دستخط کر دیے گئے؟ مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ اگر اقوام متحدہ میں اسرائیل کی موجودگی کو دلیل بنایا جاتا ہے تو پھر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی کیوں ہے۔
جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے بعد ایران اور پھر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، جبکہ یہ ایوان موجودہ شرائط پر پیس بورڈ کو مسترد کرے۔ انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ انسانوں کو ہانکنا ہمیں قبول نہیں، اگر یہ غلامی نواز اور شہباز شریف قبول کرتے ہیں تو کریں، ہم نہیں کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے 18 سال سے کم عمر شادیوں سے متعلق قانون سازی کو بھی غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جانا چاہیے تھا، میں اس قانون کی خلاف ورزی کروں گا اور کم عمر شادیوں میں خود شریک ہوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شریعت کا معاملہ ہے تو پھر اقوام متحدہ یا آئی ایم ایف کی شرط کیوں، یا تو اسلامی جمہوریہ سے ’اسلامی‘ لفظ ہٹا دیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ایسے قوانین کو ملک میں چلنے نہیں دیں گے اور ان آئینی ترامیم کو کھلے عام چیلنج کریں گے۔