اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ انتہائی سوچ بچار کے بعد کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کھیل کے میدانوں کو سیاست سے پاک ہونا چاہیے، تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان نے ایک واضح موقف اختیار کیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے پیچھے بنگلادیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا جذبہ کارفرما ہے اور پاکستان اس معاملے پر اپنے برادر ملک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات کے بعد حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان ورلڈ کپ میں تو شرکت کرے گا مگر 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ کا بائیکاٹ کرے گا، جس کی بنیادی وجہ آئی سی سی کا بنگلادیش کے حوالے سے جانبدارانہ فیصلہ بتایا جا رہا ہے۔

اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے ملک میں امن و امان کی صورتحال اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں ‘فتنہ خوارج’ اور ‘فتنہ ہندوستان’ کی جانب سے بزدلانہ حملہ کیا گیا، جس کا پاک افواج نے دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے 180 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ اس معرکے میں پاک فوج کے 17 جوانوں اور 31 شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ وزیر اعظم نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہتے شہریوں اور معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے انسان کہلانے کے حقدار نہیں ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے اور ملک سے اس ناسور کا مکمل خاتمہ کر کے دم لیا جائے گا۔

علاقائی صورتحال اور ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن کا خواہاں ہے اور ایران کے ساتھ کشیدہ صورتحال کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے برادرانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور عسکری قیادت کے ہمراہ ایرانی قیادت سے مختلف ملاقاتیں اور ٹیلیفونک رابطے ہوئے ہیں تاکہ خطے پر منڈلاتے خطرات کو ٹالا جا سکے۔ وزیر اعظم نے قطر، ترکیہ اور مصر جیسے دوست ممالک کی کوششوں کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ تمام معاملات سفارتی ذرائع سے حل ہو جائیں گے، کیونکہ خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے پرامن ماحول ناگزیر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے