واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر جنگ ایک ایسی سروس ہے جو امریکہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو فراہم کر رہا ہے۔ فلوریڈا میں لاطینی امریکی رہنماؤں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے ایران کی فوجی صلاحیت کو فیصلہ کن دھچکا پہنچا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فضائی و بحری حملوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ، فضائیہ اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ایران کے 42 بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں اور اس کی ٹیلی کمیونی کیشن کے نظام کا بڑا حصہ ناکارہ بنا دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس سے قبل کیے گئے حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اعتراف کیا کہ جنگوں میں جانی نقصان ہوتا ہے، تاہم ان کی کوشش ہے کہ یہ نقصان کم سے کم ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران بری طرح شکست کھا رہا ہے اور اسی دباؤ کی وجہ سے اس نے اپنے پڑوسی ممالک سے معافی مانگ لی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر حملے نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا تھا مگر امریکہ اور اسرائیل کے مسلسل حملوں نے اسے پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے اس موقع پر منشیات فروش گروپوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے ایک نئے فوجی اتحاد کی تشکیل کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کے ساتھ صلح کی باتیں صرف اس لیے کی جا رہی ہیں کیونکہ اسے عسکری طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔ عالمی مبصرین ٹرمپ کے اس بیان کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے اور ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے