انقرہ:(کیو این این ورلڈ) ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ صدر نکولس مادورو کی معزولی کے بعد وینزویلا کو کسی صورت عدم استحکام کی طرف نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ ترکیے وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا کیونکہ ماضی میں صدر مادورو اور وہاں کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ وہ ترک قوم کے مخلص دوست ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ممالک کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی عالمی سطح پر سنگین بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے، لہٰذا اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔ واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی افواج نے وینزویلا کے دارالحکومت پر بمباری کے بعد صدر مادورو کو حراست میں لے کر امریکہ منتقل کر دیا ہے، جہاں نیویارک کی عدالت میں ان پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، برطانیہ اور فرانس نے بھی گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے ڈنمارک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف وہاں کے عوام اور ڈنمارک کے حکمرانوں کو ہے اور برطانیہ اس اصولی موقف پر ڈنمارک کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسی طرح فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے بھی سرحدوں کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ صرف وہاں کے عوام اور ڈنمارک کی ملکیت ہے۔ فرانس نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی مذمت کریں۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کا جواز بنا کر گرین لینڈ کے حصول کی خواہش کا اظہار کیا تھا جسے یورپی ممالک نے بین الاقوامی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔