سکھ یاتری وساکھی میلہ اور خالصہ کے 327ویں جنم دن کی تقریبات میں شریک ہوں گے

دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کے اہم مذہبی تہوار وساکھی اور خالصہ کے 327 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے تقریباً 2800 سکھ یاتری آج ایک خصوصی انتظام کے تحت واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ یاتریوں کی آمد کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور سکھ کمیٹیوں میں شدید جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ ایک برس سے جاری کشیدہ سفارتی تعلقات اور بند سرحدوں کے باوجود، مذہبی رواداری اور سکھ برادری کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے پاکستان نے خصوصی طور پر واہگہ سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

واہگہ بارڈر پر یاتریوں کے استقبال کے لیے اعلیٰ سطحی انتظامات کیے گئے ہیں۔ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان، پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردار رمیش سنگھ اروڑہ اور دیگر اعلیٰ حکام سرحد پر موجود ہوں گے جو معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہیں گے۔ یاتریوں کو پھولوں کے ہار پہنائے جائیں گے اور روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یاتریوں کے قیام و طعام، سفری سہولیات، طبی امداد اور سیکیورٹی کے لیے فول پروف پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ یاتریوں کو واہگہ سے ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ کا انتظام ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں طبی ٹیمیں چوبیس گھنٹے الرٹ رہیں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سکھ مذہب کے مقدس ترین مقامات، بشمول گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب اور گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال کو خوبصورتی سے سجا دیا گیا ہے۔ یاتریوں کے مقررہ روٹس پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور یاتری مکمل اطمینان کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔

انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر لاہور مریم خان نے ضلع ننکانہ صاحب کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کی اور بیساکھی میلے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پنجاب کی ہدایت پر یاتریوں کے لیے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ 10 سے 14 اپریل تک جاری رہنے والے اس پانچ روزہ میلے کے دوران صفائی ستھرائی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، رہائش اور سیکیورٹی کے تمام مراحل مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ننکانہ صاحب میں یاتریوں کے استقبال کے لیے شہر بھر میں خیر مقدمی بینرز بھی آویزاں کر دیے گئے ہیں۔

QNN World کی رپورٹ کے مطابق، سکھ یاتری پاکستان آمد پر ہمیشہ یہاں کی مہمان نوازی اور مقدس مقامات کی دیکھ بھال کی تعریف کرتے ہیں۔ اس بار بھی پاکستانی حکومت اور عوام ان کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں، جو خطے میں امن اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنے کی ایک کڑی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے