تہران (کیو این این ورلڈ) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے جوہری مذاکرات کو سفارتی عمل کے بجائے "رئیل سٹیٹ” کے کاروبار کی طرح ڈیل کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ بڑے جھوٹوں نے حقائق کو مسخ کیا اور صدر ٹرمپ نے اپنے شہریوں سمیت عالمی سفارتکاری کو دھوکا دیا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے مذاکرات کی میز پر بمباری کی اور عداوت کی بنیاد پر سفارتی عمل کو نشانہ بنایا، جبکہ غیر حقیقت پسندانہ توقعات کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جب جھوٹ حقائق پر حاوی ہو جائے تو اس کے نتائج کبھی اچھے برآمد نہیں ہوتے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے ایران میں "رجیم چینج” (حکومت کی تبدیلی) کے لیے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک بڑے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے ایران میں بغاوت کروانے کے لیے کرد جنگجوؤں کو تیار کر رہی ہے اور صدر ٹرمپ اس سلسلے میں ایرانی اپوزیشن اور کرد رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت عراقی کردستان میں ہزاروں ایرانی کرد جنگجو موجود ہیں اور صدر ٹرمپ نے کرد رہنما مصطفیٰ ہجری سے خصوصی بات چیت بھی کی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ مسلح کرد جنگجو ایران کے اندر زمینی کارروائیوں کا آغاز کر سکتے ہیں۔