اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف میں قائم واٹر فلٹریشن ریسٹ ہاؤس گزشتہ دو ماہ سے مکمل طور پر بند ہونے کے باعث شہریوں کو پینے کے صاف اور معیاری پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔ فلٹریشن پلانٹ کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے اہل علاقہ دور دراز سے پانی لانے اور مختلف دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔
مقامی رہائشیوں محمد ثاقب، عمران بھٹی، عبید الرحمن اور عبدالعزیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واٹر فلٹریشن پلانٹ کی بندش کے بعد اب یہ جگہ کاروں اور رکشہ ڈرائیوروں کے غیر قانونی اڈے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پلانٹ کے گرد گاڑیوں کے ہجوم کی وجہ سے خواتین اور بچوں کے لیے وہاں سے گزرنا اور پانی کا حصول مزید دشوار ہو گیا ہے۔
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں صاف پانی کی عدم دستیابی نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ فلٹر شدہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے لوگ مضرِ صحت پانی پینے پر مجبور ہیں، جس کے باعث علاقے میں گردوں اور پیٹ کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ روزے دار شدید گرمی میں صاف پانی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔
شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی بار مقامی اہلکاروں اور متعلقہ کمیٹیوں کو شکایت کر چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ناکام کوششوں کے بعد شہریوں کو خالی برتن لے کر واپس گھروں کو جانا پڑتا ہے، جس سے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور کسی بھی وقت احتجاجی تحریک شروع ہونے کا امکان ہے۔
اہلِ اوچ شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور صحت مند زندگی کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔