اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار حبیب خان) سرائیکی وسیب کی ثقافتی پہچان کو اجاگر کرنے کے لیے تاریخی شہر اوچ شریف میں بھی سرائیکی اجرک ڈے بھرپور جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر شہریوں، طلبہ، سماجی شخصیات اور مختلف تنظیموں کے افراد نے سرائیکی اجرک زیب تن کر کے اپنی دھرتی، ثقافت اور روایات سے محبت کا اظہار کیا۔
شہر کے بازاروں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر گہرے نیلے اور فیروزی رنگوں سے مزین سرائیکی اجرک نمایاں نظر آئی جس نے پورے ماحول کو ثقافتی رنگوں سے بھر دیا۔ مختلف مقامات پر ثقافتی نشستوں کا انعقاد بھی کیا گیا جہاں شہریوں نے سرائیکی زبان، ثقافت اور روایات کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اسے وسیب کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کی علامت قرار دیا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ سرائیکی اجرک میں ملتانی کاشی گری کے رنگ اس خطے کی تاریخی عمارتوں اور مزارات کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ ثقافتی ماہرین کے مطابق لفظ “اجرک” عربی کے لفظ “ازرک” سے ماخوذ ہے جس کے معنی نیلے رنگ کے ہیں، اسی وجہ سے سرائیکی اجرک میں نیلے رنگ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے جو روحانیت اور وقار کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس موقع پر سرائیکی وسیب کے لوگوں اور سماجی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خطے کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے علیحدہ سرائیکی صوبہ قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی مسائل کا حل اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی اس خطے کی ترقی کی ضامن ہے، جس کے لیے صوبے کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرائیکی اجرک ڈے منانے کا مقصد نئی نسل کو اپنی جڑوں سے روشناس کرانا ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی زبان اور عظیم ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ یہ پہچان آنے والی نسلوں تک فخر کے ساتھ منتقل کی جا سکے۔