کیچ (کیو این این ورلڈ)بلوچستان کے ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ اغوا کی گئی خاتون کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ 28 جنوری 2026 بروز بدھ شام تقریباً 4:30 سے 4:45 بجے کے درمیان پیش آیا، جب تحصیل تمپ کے علاقے بلیکہ (بلاچہ/بالیچہ) میں مسلح دہشت گردوں نے مقامی خاتون نرگس بلوچ کو ان کے گھر کے سامنے سے تشدد کے بعد زبردستی اغوا کر لیا۔ اغوا کے دوران خاتون کے شوہر اور بھتیجے نے مزاحمت کی تو دہشت گردوں نے انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے موبائل فون بھی چھین لیے۔
عینی شاہدین کے مطابق دہشت گرد کرولا گاڑی میں سوار تھے، جبکہ واقعے کے بعد پیچھے سے آنے والے موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے بھی ان کی مدد کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اغوا کے بعد دہشت گرد خاتون کو ناصر آباد کے قریبی جنگلاتی علاقے کی طرف لے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نرگس بلوچ پر کالعدم بی ایل اے کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ تنظیم کے سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا سیل کے لیے کام کریں، تاہم انکار کرنے پر انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ماضی میں بھی بی ایل اے پر خواتین کو زبردستی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے، ذہنی و جسمانی تشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں دھکیلنے جیسے سنگین الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مکران ڈویژن میں ناکہ بندی کر دی، جبکہ تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی شروع کر دی گئی۔ اسی دوران انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر جوساک (جسک) کراس کے قریب ایک چیک پوسٹ پر مشتبہ سلور کرولا گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا، جس میں اغوا کار خاتون کو منتقل کر رہے تھے۔
گاڑی میں سوار دہشت گردوں نے رکنے کے بجائے فورسز پر فائرنگ کر دی، جس پر کوئیک ریسپانس فورس (QRF) نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں بی ایل اے کے دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن میں سے ایک کی شناخت سلیم کے نام سے ہوئی ہے، جو گزشتہ دو برس سے متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا، جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران مغویہ خاتون نرگس بلوچ کو بحفاظت بازیاب کرا لیا، جبکہ دہشت گردوں کی گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ بازیاب خاتون کو طبی معائنے کے بعد اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں عالمی توجہ حاصل کرنے اور خوف پھیلانے کے لیے اب خواتین اور نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، تاہم کیچ میں سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی نے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو بری طرح ناکام بنا دیا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سہولت کار یا نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔