انقرہ (کیو این این ورلڈ) ترکیہ نے خطے میں بڑھتے ہوئے جنگی خطرات کو ٹالنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی باقاعدہ پیشکش کر دی ہے۔ ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورہ انقرہ کے موقع پر ترک وزیرِ خارجہ حکان فدان واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مکالمے کی بحالی اور تناؤ میں کمی کے حوالے سے اہم بات چیت کریں گے۔ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ ملاقات جمعہ کو متوقع ہے جس کا بنیادی مقصد سفارتی ذرائع سے تصادم کو روکنا ہے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ موجودہ بحرانی صورتحال میں سفارتی رابطوں کے ذریعے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی تباہی سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب، ترکیہ نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے پیشِ نظر اپنی 530 کلومیٹر طویل سرحد کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ ایک اعلیٰ ترک عہدیدار کے مطابق، اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے اور وہاں کی انتظامیہ کمزور پڑتی ہے، تو ترکیہ سرحدی نگرانی کے لیے اضافی اقدامات اٹھائے گا۔
واضح رہے کہ امریکہ نے ایران میں حالیہ احتجاجات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے نئی فوجی مداخلت کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے سمندروں میں ایک طیارہ بردار بحری بیڑا بھی پہلے ہی تعینات کیا جا چکا ہے۔ نیٹو کا اہم رکن ہونے کے باوجود ترکیہ ماضی میں بھی ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتا رہا ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ اس کے گہرے تاریخی اور تجارتی روابط موجود ہیں۔
سرحدی دفاع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ترک ایران سرحد کے کچھ حصوں پر پہلے ہی 380 کلومیٹر طویل حفاظتی دیوار موجود ہے، تاہم حکام کا ماننا ہے کہ کسی بڑی فوجی کارروائی کی صورت میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور پناہ گزینوں کی آمد کو روکنے کے لیے موجودہ اقدامات ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ترک سکیورٹی فورسز کو الرٹ رہنے اور سرحدی علاقوں میں ہنگامی حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔