لندن (کیو این این ورلڈ)برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جن کے تحت وہ اسلامی جمہوریہ ایران میں ‘وینزویلا طرز’ کی حکومت تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ اخبار کے چیف فارن افیئرز کمنٹیٹر گیڈین رچمین لکھتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ حکمت عملی جو کراکس (وینزویلا) میں کسی حد تک کامیاب رہی تھی، تہران میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس وینزویلا کے ماڈل کو، جہاں نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری رہنما بنایا گیا تھا، مخالف حکومتوں سے نمٹنے کے لیے ایک بہترین نمونہ سمجھتا تھا۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن کا منصوبہ تھا کہ ایران میں بھی قیادت کا خلا پیدا کر کے کسی ایسے شخص کو آگے لایا جائے جو امریکی مفادات کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہو، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کے فوری انتخاب نے اس منصوبے کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔
بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ماہر امیل ہوکائیم کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای وہ لچکدار شخصیت نہیں ہیں جس کا ٹرمپ نے تصور کیا تھا، بلکہ وہ ایرانی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ گہرے روابط رکھنے والے ایک سخت گیر رہنما ہیں جو تبدیلی کے بجائے تسلسل کی علامت ہیں۔ ایران کے مذہبی اور عسکری ادارے امریکی فضائی حملوں اور اقتصادی دباؤ کے باوجود اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھے ہوئے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے سابق شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کی حمایت کرنے کی اپیلوں کو بھی نظرانداز کر دیا ہے۔ اگرچہ ریپبلکن ہاکس انہیں ایک علامتی لیڈر کے طور پر دیکھ رہے تھے، لیکن ٹرمپ نے اس خیال کو "انتہائی خیالی” قرار دے کر مسترد کر دیا کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ایران کے اندر پہلوی کا کوئی حقیقی پاور بیس نہیں ہے۔ امریکہ کو کسی ایسے عملی شخص کی تلاش تھی جو جوہری پروگرام اور تیل کے معاملے پر ڈیل کر سکے، مگر فی الحال ایسا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔
جنگ کے معاشی اثرات نے بھی ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کا اثر امریکی پیٹرول پمپس پر پڑ رہا ہے اور آنے والے وسط مدتی انتخابات کے پیشِ نظر یہ صورتحال وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی سر درد بن چکی ہے۔ رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل نوجوان خامنہ ای کو نشانہ بنا کر حکومت کو مزید غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جس سے امریکہ اس جنگ کی دلدل میں مزید گہرائی تک دھنس سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق وینزویلا ماڈل وہاں اس لیے کامیاب ہوا کیونکہ وہ ملک معاشی طور پر کمزور اور تنہا تھا، جبکہ ایران کو روس اور چین جیسی عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ‘وینزویلا 2.0’ نہیں ہے اور یہ صورتحال ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔