ٹرمپ روپڑا،نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کیے مگر وہ ہمارے دفاع کے لیے نہیں آئے

واشنگٹن(کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عالمی برادری اور اپنے دیرینہ اتحادیوں کی بے حسی پر پھٹ پڑے ہیں۔ اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا لہجہ انتہائی تلخ تھا، جہاں انہوں نے کسی کو طعنہ دیا تو کسی کو براہِ راست دھمکی دے ڈالی۔

امریکی صدر نے نیٹو (NATO) کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس اتحاد کے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کیے اور ہمیشہ ان کے لیے ڈھال بنے رہے، لیکن جب آج ہمیں ضرورت پڑی تو نیٹو میدان سے غائب ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ "ہمارے اربوں ڈالر نیٹو پر خرچ ہوئے، مگر ہمارے اپنے دفاع کے لیے کوئی موجود نہیں”۔

صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ برطانیہ نے انہیں سخت مایوس کیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب جب ہم جنگ جیت چکے ہیں تو برطانوی وزیراعظم جنگی طیارے بھیجنے کا اعلان کر رہے ہیں، میں نے انہیں بتا دیا ہے کہ اب آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایرانی رجیم کے حوالے سے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ان کا بحری اور فضائی دفاع مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دی گئی ہیں۔ انہوں نے دنیا کو چیلنج کیا کہ جن ملکوں کا تیل اس راستے سے گزرتا ہے وہ اب خود آگے آئیں اور اپنی ذمہ داری سنبھالیں۔

ایران کی موجودہ قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہاں کوئی مذاکرات کے قابل ہی نہیں، بلکہ ان کے خیال میں نئے سپریم لیڈر بھی اب زندہ نہیں رہے۔ انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے سخت موقف اپنایا کہ پرتشدد لوگوں کے پاس ایسے تباہ کن ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، ورنہ ایران انہیں امریکا کے خلاف استعمال کر چکا ہوتا۔

چین کے دورے کے بارے میں سوال پر صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ملکی حالات کے پیشِ نظر انہیں امریکا میں موجود رہنا پڑے گا، اسی لیے دورہ ایک ماہ کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ پہلے ہی چین، جاپان اور کوریا پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اپنا 90 فیصد تک تیل محفوظ بنانے کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنے بحری بیڑے خود بھیجیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے