ٹرمپ نے اسحاق ڈار کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت والی ٹویٹ شیئر کردی

واشنگٹن / اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کی گئی اہم پوسٹ کو شیئر کر دیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں زیر بحث آ گیا ہے۔

اسحاق ڈار نے اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، اور اس معاہدے کے تحت روزانہ دو پاکستانی جہاز اس اہم بحری گزرگاہ کو عبور کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس پوسٹ کو شیئر کیے جانے کے بعد اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، اور اسے خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے اور یہ اقدام نہ صرف تجارت بلکہ خطے میں اعتماد سازی اور استحکام کے لیے بھی مثبت ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر زور دیا تھا کہ مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی کے اقدامات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔

اس پیش رفت کے تحت ایران کی جانب سے پاکستانی جہازوں کو دی جانے والی اجازت کو اہم سفارتی نرمی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اور حساس راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل فراہم کیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث اس خطے میں بحری نقل و حرکت پر پابندیوں اور نگرانی میں اضافہ کیا گیا تھا، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین متاثر ہو رہی تھی۔ ایسے میں پاکستانی جہازوں کے لیے خصوصی اجازت کو ایک مثبت سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس پوسٹ کی شیئرنگ کو ماہرین پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کی غیر معمولی توثیق کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کا خطے میں ایک ممکنہ ثالث اور رابطہ کار کا کردار مزید نمایاں ہوا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی شہباز شریف کی ایک پوسٹ کو بھی بین الاقوامی سطح پر توجہ ملی تھی، جسے امریکی سیاسی حلقوں میں زیر بحث لایا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے نہ صرف پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کو فروغ دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے، تاہم صورتحال اب بھی حساس اور بدلتی ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے