واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جوہری ڈیل کے لیے چار سخت شرائط عائد کرنے کی تیاری میں ہے، جو ایران کے نیوکلیئر پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کی بنیادی بنیاد امریکی نیوز آؤٹ لیٹ Axios ہے، جسے بعد میں CNN، The New York Times، Fox News، اور Iran International نے بھی رپورٹ کیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ چار شرائط ٹرمپ کی "maximum pressure” پالیسی کا تسلسل ہیں، جو 2025 میں ان کی دوسری ٹرم کے آغاز کے بعد ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نافذ کی گئی۔ ان شرائط میں ایران کو اپنے تمام افزودہ یورینیئم کی ملک سے مکمل منتقلی، ملک میں یورینیئم کی افزودگی پر مکمل پابندی، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی حد بندی، اور علاقائی پراکسیز کی حمایت بند کرنے کا پابند بنانا شامل ہے۔

مزید برآں، امریکی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کی تیل برآمدات روکنے کے لیے naval blockade نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ایران کی معیشت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس بلاکیڈ کو ابھی تک رسمی طور پر نافذ نہیں کیا گیا، لیکن یہ اقدامات ایران کے اقتصادی دباؤ اور "maximum pressure” حکمت عملی کے تحت جاری ہیں، جس کے اثرات ایران کی اقتصادی اور سیاسی پوزیشن پر واضح طور پر پڑ رہے ہیں۔

چار شرائط کی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے:

1: ایران کو اپنے تمام افزودہ یورینیئم کو ملک سے باہر منتقل کرنا ہوگا تاکہ نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی صلاحیت ختم ہو۔ یہ شرط واضح طور پر ایران کو کوئی بھی یورینیئم افزودگی کرنے کی اجازت نہ دینے کے لیے رکھی گئی ہے۔

2: ایران کو ملک میں یورینیئم افزودگی کا پروگرام مکمل طور پر بند کرنا ہوگا۔ اس شرط کو "zero enrichment” پالیسی کہا جا رہا ہے۔ اگر ایران اس پر عمل کرے تو امریکا 30 بلین ڈالر کی سویلین نیوکلیئر امداد کی پیشکش کر سکتا ہے، جسے خلیجی عرب اتحادی فنڈ کریں گے، تاہم افزودگی کی کوئی اجازت نہیں ہوگی۔

3: ایران کو اپنے بیلسٹک میزائلوں کی رینج محدود کرنی ہوگی تاکہ خطے میں سلامتی اور اسرائیل و خلیجی ممالک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ امریکی حکام نے یہ واضح کیا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں میزائل فیکٹریوں کو نشانہ بنانے کے آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔

4: ایران کو علاقائی پراکسیز اور ملیشیاؤں جیسے حزب اللہ، حوثی، اور عراقی ملیشیائیں کی حمایت بند کرنی ہوگی۔ یہ شرط عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر رکھی گئی ہے اور ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

ان شرائط کے علاوہ، ٹرمپ انتظامیہ ایران کی 6 billion dollars کی منجمد اثاثوں کی ریلیز اور نئی نیوکلیئر سائٹ (Fordow کی جگہ) کی تعمیر کی پیشکش کر رہی ہے، تاہم افزودگی کے بغیر۔

ایرانی ردعمل میں واضح کیا گیا ہے کہ یورینیئم افزودگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی فوجی جارحیت کا "منہ توڑ جواب” دیا جائے گا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ کسی بھی حملے کو مکمل جنگ سمجھا جائے گا اور ایران اپنے علاقائی اتحادیوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

2025 کے وسط سے یہ صورتحال زیر بحث ہے، جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران اپنی شرائط پیش کیں۔ امریکی پوزیشن کے مطابق ایران کو نیوکلیئر ہتھیار کی طرف قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ترجیح ڈپلومیٹک حل پر دی جائے گی، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے۔

خطے میں اس پالیسی کے اثرات نمایاں ہیں۔ خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، اس حکمت عملی کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کے ساتھ تناؤ میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ ایران کی جانب سے یورینیئم افزودگی اور علاقائی پراکسیز کی حمایت کے تسلسل سے ممکنہ تصادم کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، اور عالمی برادری کے لیے صورتحال پیچیدہ بن گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے