گھوٹکی(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی بائی پاس پر گنے سے بھری ٹرالیاں کھڑی کیے جانے کے باعث سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔ ٹریفک کی طویل بندش کے باعث متعدد ایمرجنسی مریض بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے، جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق بائی پاس پر ٹرالیاں کھڑی ہونے کے بعد دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنس کر رہ گئیں، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور موٹر وے پولیس کی جانب سے بروقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

واضح رہے کہ گھوٹکی بائی پاس ضلع کا سب سے زیادہ مصروف اور حساس ایمرجنسی روٹ تصور کیا جاتا ہے، جہاں لطیف میڈیکل سینٹر، انڈس ہسپتال، سٹی میڈیکل سینٹر اور عمران میڈیکل سینٹر سمیت متعدد اہم طبی ادارے قائم ہیں۔ یہ بائی پاس شہر کا مرکزی داخلی راستہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں شہریوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔

واقعے کے بعد ضلع گھوٹکی کے عوام نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور بائی پاس کھلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ مجبوری کے تحت شہریوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وقتی طور پر متبادل راستے اختیار کریں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بائی پاس کھلوانا ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار سے باہر دکھائی دے رہا ہے، جو ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے