کراچی اور حیدرآباد میں گزشتہ چند روز کے دوران متعدد سنسنی خیز واقعات پیش آئے، جن میں ٹریفک حادثات، فائرنگ اور آگ لگنے کے واقعات شامل ہیں، جن میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
کراچی کے ناظم آباد نمبر 3 میں ایک تیز رفتار کار نے راہگیر کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا اور لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کر دی گئی۔ اسی شہر میں ناتھا خان پل کے قریب نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار 50 سالہ ریاض ہلاک ہو گیا۔
نارتھ ناظم آباد میں اے وی ایل سی اور سی آئی اے پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 50 سے زائد مقدمات میں ملوث خطرناک ملزم دلاور زخمی حالت میں گرفتار ہوا، اور اس کے قبضے سے مسروقہ کار اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
حیدرآباد میں ٹنڈو محمد خان روڈ پر ایک مسافر کوسٹر نے دو بچیوں اور ایک عورت کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں 15 سالہ بھوری اور 5 سالہ صائمہ جاں بحق ہو گئیں جبکہ 30 سالہ گلناز شدید زخمی ہو گئی۔ متاثرہ افراد کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا اور ڈرائیور کو تحویل میں لے لیا گیا۔
اسی شہر میں نائیجانی لنک روڈ بند کے قریب کار چوری کے مرکزی ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر موقع پر ہلاک ہو گیا، جبکہ اس کے ساتھی فرار ہو گئے۔ ہلاک ملزم کے خلاف سندھ اور پنجاب میں 33 سے زائد مقدمات درج تھے۔
مزید برآں حیدرآباد میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران نجی یونیورسٹی اسپتال کے سامنے قائم کیبن کو اس کے مالک نے آگ لگا دی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور شہریوں میں تشویش پیدا ہوئی۔
پولیس اور ریسکیو حکام نے تمام واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اقدامات جاری ہیں۔