تہران / تل ابیب / ریاض (کیو این این ورلڈ) مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کھلی جنگ کی صورت اختیار کر گئی ہے، جس کے نتیجے میں خطے بھر میں شدید فضائی حملے، میزائل کارروائیاں اور سفارتی ہنگامی اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق تہران میں واقع لیڈرشپ کمپلیکس پر تقریباً 100 جنگی طیاروں کے ذریعے بڑا حملہ کیا گیا، جس میں 250 بم گرائے گئے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی صدارتی بیورو اور سلامتی کونسل کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق گزشتہ 30 گھنٹوں میں ایران پر مجموعی طور پر 2000 بم گرائے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے مختلف علاقوں کے علاوہ قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ میزائل حملوں میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ امریکا کے طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln کو چار میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی ہلال احمر کے مطابق ایران پر امریکا و اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اموات کی تعداد 787 تک پہنچ گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 153 ایرانی شہروں کے 500 سے زائد مقامات پر ایک ہزار سے زائد حملے کیے گئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے Bloomberg کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً 80 فیصد تک کم ہو چکی ہے، جس کے بعد ایشیائی آئل ریفائنریز نے 20 سے 30 فیصد تک پیداوار کم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ چین، بھارت، جنوبی کوریا اور جاپان خلیجی تیل پر گہرا انحصار کرتے ہیں، جبکہ خلیج سے ایشیا تک تیل پہنچنے میں عموماً 15 سے 30 دن لگتے ہیں۔ متبادل سپلائی امریکا، یورپ یا افریقا سے حاصل کرنا مہنگا اور وقت طلب عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
قطر کی سرکاری توانائی کمپنی QatarEnergy نے اپنی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے عالمی گیس مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں محدود آگ لگی اور معمولی نقصان ہوا۔ حملے کے بعد سفارتخانے نے قونصلر خدمات معطل کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ادھر اسرائیلی افواج نے تہران کے ساتھ ساتھ بیروت پر بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ایران اور لبنان میں مجموعی اموات کی تعداد 600 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اسرائیل کے مطابق مغربی یروشلم، تل ابیب اور ایلات پر داغے گئے متعدد میزائل فضاء میں ہی تباہ کر دیے گئے، تاہم ہفتے سے اب تک اسرائیل میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم تقریباً چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور واشنگٹن تہران کے میزائل و جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ ان کا بیان امریکی اخبار The Wall Street Journal کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں عمانی ثالثی کے ذریعے مذاکرات کی کوشش کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شریک ہوئے تو اسے اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
خطے میں بگڑتی صورتحال کے باعث امریکا اور کینیڈا نے اپنے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن سمیت 14 ممالک میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
کینیڈا نے بھی اپنے شہریوں کو دبئی فوری چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی پروازوں کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ زمینی راستوں سے محفوظ مقامات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔
خطے میں بڑھتی جنگی کارروائیوں کے باعث عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے فوری جنگ بندی اور سفارتی کوششیں تیز کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، تاہم صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور کسی بڑے علاقائی تصادم کے خدشات برقرار ہیں۔