واشنگٹن: (کیو این این ورلڈ) امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ جدید ترین امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (USS Gerald R. Ford) ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں کے دوران اچانک مشن ادھورا چھوڑ کر بندرگاہ کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔ اس غیر متوقع پیش رفت کو مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور جاری جنگی مہم کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے امریکی بحریہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی ایک مفصل رپورٹ کے مطابق اس واپسی کی بڑی وجہ جہاز کے اندر لگنے والی ایک خوفناک آگ بنی جس نے عملے کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ جہاز کے مرکزی لانڈری ایریا میں لگی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی۔ اس آگ پر قابو پانے کے لیے عملے کو مسلسل 30 گھنٹوں سے زائد وقت تک جدوجہد کرنی پڑی، جس کے دوران جہاز پر موجود اہلکار سخت خوف و ہراس کا شکار رہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کا یہ واقعہ گزشتہ ہفتے جمعرات کے روز پیش آیا جس کے نتیجے میں جہاز کا اندرونی نظام بری طرح متاثر ہوا۔ آگ کی شدت کے باعث 600 سے زائد فوجی اہلکار اپنے بستروں اور رہائشی جگہوں سے محروم ہو گئے، جس کے بعد انہیں کئی روز تک فرش اور میزوں پر سو کر گزارا کرنا پڑا۔ امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں دو اہلکار زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، جبکہ دھوئیں کی وجہ سے درجنوں اہلکاروں کی حالت غیر ہو گئی تھی۔
واقعے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آگ کے باعث جہاز میں لانڈری اور دیگر ضروری سہولیات مکمل طور پر معطل ہو گئیں، جس سے عملے کو اپنے روزمرہ کے امور کی انجام دہی میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ خوش قسمتی سے جہاز کا انجن اور مرکزی جنگی نظام محفوظ رہا، تاہم اندرونی نقصانات اتنے زیادہ تھے کہ اسے مزید جنگی مہم پر برقرار رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس جہاز پر تقریباً 4500 فوجی اہلکار اور ماہر فائٹر پائلٹس تعینات ہیں۔
یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کی حالیہ نقل و حرکت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ جہاز پہلے بحیرہ روم میں موجود تھا، جہاں سے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے خصوصی حکم پر اسے کیریبین منتقل کیا گیا تھا۔ اس منتقلی کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ بڑھانے کی مہم کو تقویت دینا تھا۔ تاہم بعد ازاں اسے وہاں سے نکال کر مشرق وسطیٰ بھیجا گیا تاکہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں اسرائیل اور امریکا کی معاونت کر سکے۔
ایران کے خلاف یہ جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، لیکن تکنیکی خرابی اور آگ کے واقعے نے اس بڑے بحری بیڑے کو واپسی پر مجبور کر دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جنگی حالات کے باعث جہاز پر موجود اہلکاروں کا بیرونی دنیا سے رابطہ انتہائی محدود ہے، جس کی وجہ سے معلومات کے تبادلے میں شدید رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔ یہ جہاز اس وقت اپنی تعیناتی کے دسویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے جو ایک غیر معمولی دورانیہ ہے۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جہاز اپریل کے وسط تک سمندر میں رہا تو یہ ویتنام جنگ کے بعد طویل ترین تعیناتی کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ یو ایس ایس ابراہم لنکن کے پاس ہے جس نے 2020 میں 294 دن سمندر میں گزارے تھے۔ موجودہ صورتحال میں جہاز کے عملے کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ان کی ڈیوٹی مئی تک بڑھائی جا سکتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلسل ایک سال تک گھروں سے دور سمندر میں رہیں گے۔
نیویارک ٹائمز کے علاوہ روئٹرز، بلومبرگ اور واشنگٹن پوسٹ جیسے معتبر اداروں نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جدید ترین طیارہ بردار جہاز میں آگ لگنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان نے پینٹاگون کے لیے پریشانی پیدا کر دی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف امریکی بحریہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے بلکہ ایران کے خلاف جاری جنگی حکمت عملی میں بھی ایک بڑا خلا پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔