لاہور (کیو این این ورلڈ)لاہور میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب جیسے ہی گھڑی نے بارہ بجائے، شہر کی فضاؤں میں ایک بار پھر رنگ بکھر گئے اور 25 برس بعد شبِ بسنت پوری آب و تاب کے ساتھ منائی گئی۔ پابندی کے طویل عرصے کے بعد جیسے ہی اجازت ملی، لاہوریوں نے پتنگیں اُڑانا شروع کر دیں، چھتوں پر منچلے بھنگڑے ڈالتے رہے اور ہر سمت ’’بو کاٹا‘‘ کی صدائیں گونجتی رہیں۔

بسنت کی باضابطہ افتتاحی تقریب صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت مریم اورنگزیب نے بھاٹی گیٹ میں ایک چھت پر منعقد کی۔ افتتاح سے قبل انہوں نے سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کا بھی جائزہ لیا اور شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر ہر صورت عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے جمعہ کی رات سے اتوار کی رات تک، تین دن کے لیے پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے۔ بسنت پر عائد 25 سالہ پابندی کے خاتمے کے فیصلے نے جہاں شہر کو خوشیوں سے بھر دیا، وہیں ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ لاہوریوں کی دیرینہ خواہشات کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے مقامی معیشت، کاروبار اور سیاحت کو فروغ ملے گا، جبکہ ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ ان خاندانوں کے زخم تازہ کر سکتا ہے جنہوں نے آوارہ ڈور کے باعث اپنے پیارے کھوئے تھے۔

بسنت دراصل ایک موسمی تہوار ہے جو سردیوں کو الوداع کہنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ یہ فروری کے خوشگوار موسم میں آتا ہے، جب نہ زیادہ سردی ہوتی ہے اور نہ گرمی۔ پنجاب میں بسنت کی تقریبات 25 سال بعد بحال کی گئی ہیں، جو 6 فروری 2026 سے شروع ہو کر 8 فروری تک جاری رہیں گی۔

شہر بھر میں عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ہر عمر کے افراد تہوار کے رنگ میں رنگے نظر آئے، بیشتر چھتیں روشنیوں سے جگمگاتی رہیں، موسیقی اور گیتوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جبکہ خوشی میں ڈوبے ہجوم نے شور شرابہ کیا۔ بعض مقامات پر آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک رہے۔

بسنت کے موقع پر رات گئے خصوصی کھانوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جن میں باربی کیو، گرم گرم چائے اور سبز چائے خاص طور پر مقبول رہیں۔ شہریوں نے نئے اور رنگین ملبوسات زیب تن کیے، گلے ملنا، ڈھول کی تھاپ، ہارن، ترمپٹ، پتنگیں اور ڈور کی پُنیاں شبِ بسنت کا لازمی حصہ بنیں۔

لاہور میں بسنت صرف مقامی شہریوں تک محدود نہ رہی بلکہ اندرونِ و بیرونِ ملک سے آنے والے مہمانوں نے بھی اس تہوار میں بھرپور شرکت کی۔ مانچسٹر سے آئے ایک شوقین شہری نے بتایا کہ وہ تقریباً 20 سال بعد بسنت منانے پاکستان آئے ہیں۔ ان کے مطابق جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ پنجاب حکومت نے بسنت پر پابندی اٹھا لی ہے، انہوں نے اپنا دورہ قبل از وقت طے کر لیا۔ تاہم انہوں نے معیاری ڈور نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی ڈور فروشوں نے خریداروں کو دھوکہ دیا۔

نوجوانوں کے لیے بسنت ایک نیا تجربہ ثابت ہوئی، کیونکہ 2001 میں پابندی کے بعد پیدا ہونے والی نسل نے یہ تہوار پہلی بار دیکھا۔ والدین اپنے بچوں کو پرانی بسنت کی کہانیاں سناتے رہے، ساتھ ہی اس بات پر افسوس بھی کرتے رہے کہ ان کے دور میں پتنگ اور ڈور کہیں زیادہ سستی ہوتی تھی۔

مہنگائی کے باوجود نوجوان تینوں دن بسنت منانے کے لیے پُرعزم دکھائی دیے۔ کالج کے طالب علم علی نے کہا کہ اگرچہ اس کے پاس پتنگ خریدنے کے پیسے نہیں، لیکن وہ گری ہوئی پتنگیں پکڑ کر ہی بسنت کا لطف اٹھائے گا۔ یونیورسٹی کے طالب علم طارق نے کہا کہ وہ ڈور کے خطرے کے باعث پتنگ نہیں اُڑاتا، مگر آسمان میں اُڑتی پتنگیں اور ’’بو کاٹا‘‘ کے نعرے سن کر بھرپور لطف اندوز ہوتا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے لبرٹی چوک پر شاندار بسنت گالا منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جو ہفتے کے روز بسنت کے دوسرے دن ہوگا۔ اس اعلان نے نوجوانوں اور شہریوں میں مزید جوش پیدا کر دیا ہے۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ پتنگ بازی میں دلچسپی نہیں رکھتے، مگر لبرٹی چوک کی تقریبات ان کے لیے ایک بڑا تفریحی ایونٹ ہوں گی۔

بسنت 2026 سوشل میڈیا کے دور میں منائی جا رہی ہے۔ واٹس ایپ، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر بسنت کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، دعوتیں اور پروگرام آن لائن شیئر کیے جا رہے ہیں، جبکہ پتنگ اور ڈور کے آرڈرز بھی فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے بک ہو رہے ہیں۔

اگرچہ بسنت سخت سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کے تحت منائی جا رہی ہے، تاہم ناخوشگوار واقعات کا خدشہ بدستور موجود ہے۔ ماضی میں ہوائی فائرنگ اور چھتوں سے گرنے کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ اگر یہ بسنت پُرامن انداز میں اختتام پذیر ہو گئی تو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں اس تہوار کو دیگر اضلاع تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے، کیونکہ مختلف علاقوں سے اجازت کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

پتنگ بازی کے ناقدین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ذرا سی کوتاہی بھی پنجاب حکومت کے خلاف شدید تنقید اور مستقل پابندی کے مطالبے کو ہوا دے سکتی ہے۔ بسنت کے تین روزہ گالا کے اختتام پر ہی اس فیصلے کے اثرات واضح ہوں گے، تاہم فی الحال لاہوری امید اور خوشی کے رنگ میں ڈوبے دکھائی دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے