اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ ان کیمرا اجلاس بلانے پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ پارلیمانی لیڈرز اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے اہم اجلاس میں ملکی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کی اندرونی کہانی کے مطابق، وزیراعظم نے شرکاء کو مشرق وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ کیے گئے حالیہ رابطوں پر اعتماد میں لیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متوازن انداز میں چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تجویز دی کہ پی ٹی آئی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس اہم معاملے پر بریفنگ میں شامل کیا جائے اور پارلیمان کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جائے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور دیگر سیاسی قائدین نے مولانا فضل الرحمان کی تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی روایات کے مطابق قومی سلامتی کے ایسے سنگین معاملات پر پارلیمنٹ کا فورم ہی بہترین جگہ ہے۔ وزیراعظم نے ان کیمرا اجلاس کے انعقاد سے متعلق اتحادیوں اور مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے تاکہ متفقہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ خلیجی ممالک پر حملے نہیں ہونے چاہئیں اور امریکہ کو بھی باور کرایا جائے گا کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں پیش رفت کے بعد حملوں کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔