گھوٹکی (نامہ نگار مشتاق علی لغاری)پنجاب اور سندھ کے سرحدی کچے کے علاقوں میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے بدنام زمانہ ڈاکو چھلو بکرانی کو گھوٹکی پولیس نے ایک کامیاب اور جدید ڈرون آپریشن کے دوران انجام تک پہنچا دیا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس انتہائی مطلوب ڈاکو کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، جو قتل، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی جیسے درجنوں سنگین جرائم میں ملوث تھا اور طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج بنا ہوا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جدید ٹیکنالوجی اور ڈرون کیمروں کی مدد سے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی، جس کے ذریعے ڈاکو کی کمین گاہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے انجام کو پہنچا اور پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔

اس اہم کامیابی کے بعد کچے کے متاثرہ علاقوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پیٹرولنگ بڑھا دی گئی ہے اور پورے ضلع میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چھلو بکرانی کی ہلاکت سے کچے میں ڈاکوؤں کے نیٹ ورک کو گہرا دھچکا لگا ہے اور علاقے میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے جاری آپریشنز مزید تیز کر دیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک کچے سے آخری ڈاکو کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں ہو جاتی، تب تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی تاکہ عوام کو امن و سکون فراہم کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے