میرپور ماتھیلو: تھانہ جروار میں مبینہ بے ضابطگیاں، صحافی کو دھمکیاں، اعلیٰ حکام سے نوٹس کا مطالبہ

گھوٹکی(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار):میرپور ماتھیلو کے تھانہ جروار میں مبینہ بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کے الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ ایک مقامی صحافی کو مبینہ طور پر سنگین دھمکیاں دیے جانے کے بعد صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق تھانہ جروار میں انتظامی معاملات غیر معمولی انداز میں چلائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جہاں مبینہ طور پر ہیڈ محرر غلام علی گبول کا عملی کنٹرول ہے جبکہ ایس ایچ او اعجاز احمد جسکانی کے حوالے سے بھی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایس ایچ او اکثر پٹرول پمپ پر وقت گزارتے ہیں اور مبینہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر معاملات کا حساب لینے میں مصروف رہتے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانے میں بااثر افراد، نام نہاد وڈیروں اور جرائم پیشہ عناصر کو مبینہ طور پر مکمل پروٹوکول فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ عام شہریوں کو انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ بعض افراد پر صحافت کی آڑ میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب مقامی صحافی مشتاق علی لغاری کو چند روز قبل نامعلوم افراد کی جانب سے فون پر سنگین نتائج اور قتل کی دھمکیاں دی گئیں، جس کے باعث ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ متاثرہ صحافی کی جانب سے اس معاملے کی اطلاع پولیس کو دی گئی تاہم الزام ہے کہ پولیس نے نہ صرف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی بلکہ مناسب تحفظ فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی۔

صحافی کے والد کا کہنا ہے کہ اگر ان کے بیٹے یا خاندان کے کسی فرد کو نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ایس ایچ او جروار اعجاز احمد جسکانی، ہیڈ محرر غلام علی گبول، ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو اور ایس ایس پی گھوٹکی پر عائد ہوگی۔

متاثرہ خاندان نے سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام سمیت مراد علی شاہ، ڈی آئی جی سکھر اور آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ ان الزامات کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم معاملہ سامنے آنے کے بعد مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے