تہران/ریاض/کویت/بغداد (کیو این این ورلڈ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے جہاں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز فورس (پاسداران انقلاب) نے آپریشن “وعدہ صادق” کے تحت حملوں کی اکیاونویں لہر شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اس تازہ کارروائی میں خلیجی اور عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور دفاعی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد خطے میں سکیورٹی الرٹ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ان فوجی مراکز کو نشانہ بنانا تھا جو اسرائیل کو عسکری اور دفاعی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے مطابق سعودی عرب کے شہر الخرج میں قائم امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا گیا جہاں جدید لڑاکا طیاروں ایف 35 اور ایف 16 کے تربیتی مراکز موجود ہیں۔ ایرانی بیان کے مطابق یہ حملہ ایران کے ایک کمانڈر ابو القاسم بابائیان اور ان کی اہلیہ کی یاد میں کیا گیا۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت دفاع نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الخرج گورنریٹ کی جانب داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے بروقت ناکارہ بنا کر تباہ کر دیا اور کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملہ لہر کے دوران متحدہ عرب امارات کے فجیرہ اور الدفرا فوجی اڈوں، بحرین میں جفاریہ اڈے اور امریکی پانچویں بحری بیڑے، کویت کے علی السالم ایئربیس اور اردن کے الازرق فوجی اڈے کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں خطے میں نصب ان ریڈار سسٹمز کو بھی ہدف بنایا گیا جو مبینہ طور پر اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے حفاظتی کردار ادا کر رہے تھے۔
ادھر کویت کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں کویت کے ایئرپورٹ کے ریڈار نظام کو نقصان پہنچا جس کے بعد خطے میں جاری جنگی صورتحال کے باعث تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ اس سے قبل کویتی وزارت دفاع نے علی السالم ایئربیس پر ڈرون حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس واقعے میں 3 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب بغداد ایئرپورٹ کمپلیکس کے قریب ایک ڈرون گر کر تباہ ہو گیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق اس کمپلیکس میں ایک فوجی اڈہ اور امریکی سفارتی تنصیب موجود ہے۔ ڈرون فوجی اڈے کی طرف بڑھ رہا تھا تاہم وہ کمپلیکس کے باہر گر گیا جس سے قریبی علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایران کی جانب سے امریکا کو سخت پیغام بھی دیا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اپنا صنعتی کاروبار اور سرمایہ کاری مشرقِ وسطیٰ سے منتقل کرے اور عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان فیکٹریوں سے دور رہیں جن میں امریکی کمپنیوں کے حصص موجود ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ انتباہ اس کے بعد جاری کیا گیا جب گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایرانی غیر فوجی فیکٹریوں پر حملوں میں کئی سویلین کارکن جاں بحق ہوئے۔
دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بھی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہو گئے جن میں ماں، باپ اور ان کے دو بچے شامل ہیں۔
اسی دوران عالمی توانائی مارکیٹ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایک ایرانی عہدیدار نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ ایران محدود تعداد میں آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے تاہم اس کے لیے شرط رکھی جا سکتی ہے کہ تیل کی تجارت چینی کرنسی یوان میں کی جائے۔ واضح رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی خرید و فروخت عموماً امریکی ڈالر میں ہوتی ہے، اس لیے یہ فیصلہ عالمی مالیاتی نظام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
ادھر برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ہزاروں انٹرسیپٹر اینٹی ڈرون بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فوجی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ “آکٹوپس” نامی اینٹی ڈرون سسٹم کو ایران کے خلاف دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ جدید نظام برطانیہ میں تیار کیا جاتا ہے اور اس سے قبل یوکرین کو روس کے خلاف دفاعی نظام کے طور پر فراہم کیا جا چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں ایران کے اہم تیل مرکز خارگ جزیرے پر حملوں کا اشارہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر مکمل شکست دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خارگ جزیرے کا بڑا حصہ پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے اور ممکن ہے کہ مزید حملے بھی کیے جائیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران تنازع ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے تاہم تہران کی پیش کردہ شرائط ابھی قابل قبول نہیں۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ جو ممالک اس گزرگاہ سے تیل حاصل کرتے ہیں انہیں خود اس راستے کی سکیورٹی یقینی بنانی چاہیے جبکہ امریکا اس سلسلے میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر کو مسترد کر دیا ہے جس میں بنیامین نیتن یاہو کے قتل کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم آفس کے مطابق نیتن یاہو خیریت سے ہیں اور یہ خبر محض افواہ ہے۔
امریکی میڈیا کی تازہ رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ اس کے پاس بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے انٹرسیپٹر میزائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکا کو اس صورتحال کا علم گزشتہ کئی مہینوں سے تھا اور اگر حملوں کی شدت برقرار رہی تو اسرائیل کے دفاعی نظام پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے جبکہ پورا خطہ ایک وسیع جنگ کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔