خیبرپختونخوا (کیو این این ورلڈ) افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے بعد خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، سرکاری دستاویز کے مطابق صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں 65 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق آپریشن سے قبل رواں سال خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، تاہم آپریشن کے آغاز کے بعد یہ تعداد کم ہو کر 80 رہ گئی ہے، جو سکیورٹی صورتحال میں واضح بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے نویں ہفتے میں دہشتگردی کے سب سے زیادہ 48 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ آپریشن کے بعد بارہویں ہفتے میں یہ تعداد کم ہو کر 12 رہ گئی۔ اسی طرح دسویں ہفتے میں 42 اور گیارہویں ہفتے میں 29 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو بعد ازاں نمایاں حد تک کم ہو گئے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق رواں سال اب تک صوبے میں دہشتگردی کے مجموعی طور پر 323 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، تاہم آپریشن کے بعد ان واقعات میں مسلسل کمی کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے سے دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملک سے ہر صورت دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں سمیت ملک میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کے ماسٹر مائنڈز کو ہلاک کیا گیا، جبکہ افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے کئی خطرناک دہشتگرد بھی مارے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی بھی کی تھی۔
دوسری جانب چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا کہ آپریشن کے صوبے میں امن و امان پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی اور یہ کامیابیاں پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔