دہشت گردی کا خاتمہ، آپریشن پہاڑوں پر نہیں، ڈیروں اور حویلیوں میں کیا جائے
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی

کوئٹہ، مستونگ اور بلوچستان کے 12 مختلف شہروں میں حالیہ دنوں میں ہونے والی ہمہ گیر دہشت گردی محض ایک خبر یا حادثہ نہیں، بلکہ یہ ریاست اور اس کے مقتدر اداروں کے خلاف ایک مکمل چارج شیٹ ہے۔ یہ چارج شیٹ صرف ان لوگوں کے خلاف نہیں ہے جنہوں نے ہاتھوں میں بندوقیں اٹھا رکھی ہیں، بلکہ ان پوشیدہ طاقت کے مراکز کے خلاف ہے جو برسوں سے خود کو قانون، آئین اور احتساب سے بالاتر سمجھتے آئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے بلاشبہ ‘فتنہ الہندوستان’ کے نام سے سرگرم نیٹ ورکس کے کئی بڑے حملے ناکام بنائے، متعدد خودکش حملہ آوروں کو جہنم واصل کیا اور درجنوں دہشت گرد مارے گئے، مگر اس ظاہری کامیابی کے پسِ پردہ ایک کڑوی حقیقت اب بھی چیخ چیخ کر ہمیں متوجہ کر رہی ہے کہ دہشت گردی کا اصل انفراسٹرکچر میدانِ جنگ سے زیادہ ان عالیشان ڈرائنگ رومز میں مضبوط ہے جہاں سازشیں بنی جاتی ہیں، اور اس کی جڑیں بنجر پہاڑوں سے زیادہ ان محفوظ حویلیوں اور ڈیروں میں پھیلی ہوئی ہیں جہاں قانون قدم رکھتے ہوئے بھی ہچکچاتا ہے۔

حالیہ حملوں کے پیٹرن پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ بازار، جیلیں، تھانے، بینک اور سرکاری دفاتر براہِ راست نشانے پر تھے۔ مستونگ میں پورے شہر پر دھاوا بول کر جیل توڑنا، سرکاری ریکارڈ کو نذرِ آتش کرنا، گوادر میں بے گناہ مزدوروں کے کیمپ کو لہو رنگ کرنا، نوشکی میں ڈپٹی کمشنر کا اغوا، قومی شاہراہوں کی بندش اور انٹرنیٹ کی معطلی؛ یہ سب کچھ کسی اتفاقیہ حادثے یا وقتی اشتعال کا نتیجہ ہرگز نہیں تھا۔ یہ ایک منظم، مربوط اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا شاخسانہ تھا۔ ایسی ہم آہنگی، انٹیلی جنس کی فراہمی، لاجسٹکس کا انتظام، خطیر مالی معاونت اور مقامی سطح پر سہولت کاری کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کتنے دہشت گرد مارے گئے، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اتنے منظم کیسے ہوئے اور انہیں اس قدر حساس معلومات اور وسائل کس نے فراہم کیے؟

یہیں سے وہ اصل بحث جنم لیتی ہے جسے ہم اکثر مصلحت کے پردوں میں چھپا دیتے ہیں۔ اگر دہشت گردی کے مراکز واقعی صرف پہاڑوں کی غاروں میں ہوتے تو ہر بڑے آپریشن کے بعد یہ نیٹ ورک جڑ سے ختم ہو چکا ہوتا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے؛ ہر فوجی کارروائی کے بعد نئے سیل، نئی بھرتیاں اور پہلے سے زیادہ خطرناک منصوبہ بندیاں سامنے آتی ہیں۔ اس تسلسل کا جواب ان "نو گو ایریاز” میں پوشیدہ ہے جہاں قانون داخل ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے۔ یہ علاقے کسی دور دراز جغرافیے کا حصہ نہیں بلکہ ہمارے سماجی اور سیاسی ڈھانچے کے وہ حصے ہیں جہاں طاقت، کالا دھن اور سیاسی اثرورسوخ مل کر قانون کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتے ہیں۔ جب تک ان پناہ گاہوں کا قلع قمع نہیں کیا جاتا، پہاڑوں پر بمباری محض وقت کا ضیاع ثابت ہوگی۔

یہ کہنا یقیناً ناانصافی ہوگی کہ بلوچستان کے تمام سردار، سیاست دان یا بااثر خاندان دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ہرگز نہیں، ان میں محبِ وطن عناصر کی کمی نہیں۔ مگر یہ بھی ایک ناقابلِ تردید اور تلخ حقیقت ہے کہ علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیمیں خاندانی، قبائلی اور سیاسی رشتوں کی مضبوط بنیادوں کے بغیر اتنی دیرپا اور منظم نہیں رہ سکتیں۔ ریاستی رپورٹس، عدالتوں میں جمع کرائے گئے شواہد، عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیے جانے والے گروپس پر عائد پابندیاں اور برسوں کی صحافتی تحقیق ایک ہی مخصوص پیٹرن دکھاتی ہے: جہاں جہاں سیاست، قبائلیت اور تشدد کی لکیر دھندلا دی جاتی ہے، وہیں دہشت گردی کو سانس لینے کی جگہ ملتی ہے۔ جب محافظ ہی سہولت کار بن جائیں تو پھر امن ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔

نام لینے سے گریز کرنا اب خود ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (BLA)، بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA)، بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی (UBA) جیسے گروپس کے بارے میں ریاست کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ان گروپس کے سیاسی فرنٹس، ان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے ہمدرد نیٹ ورکس اور بااثر سہولت کار اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے۔ اب یہ ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ ان گروپس کو کہاں سے فنڈنگ ملتی ہے اور ان کے رابطے کہاں کہاں ہیں۔ اصل تشنہ طلب سوال یہ ہے کہ کیا ان روابط کی مالی، خاندانی اور جغرافیائی کڑیوں پر کبھی پوری ریاستی قوت سے ہاتھ ڈالا گیا؟ کیا کبھی ان "بڑوں” کا محاسبہ ہوا جو ان نوجوانوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟ یا آپریشن ہمیشہ صرف ان گمراہ نوجوانوں تک محدود رہا جنہیں بندوق تھما کر آگے دھکیل دیا گیا، جبکہ اصل منصوبہ ساز محفوظ حصاروں میں بیٹھ کر خون کی اس ہولی کا تماشہ دیکھتے رہے؟

ریاست کی دہری پالیسی نے بھی معاملات کو الجھایا ہے۔ اگر کسی خاندان کا ایک فرد پارلیمان کے معزز ایوان میں بیٹھا ہو اور اسی خاندان کا دوسرا فرد بیرونِ ملک بیٹھ کر ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کی قیادت کر رہا ہو، تو ریاست کی نظر صرف اس بندوق پر کیوں رہتی ہے جو پہاڑ پر ہے، ان رابطوں پر کیوں نہیں جو شہر کے مرکز میں ہیں؟ اگر کسی سیاسی رہنما کی زبان پر تو حقوق اور محرومیوں کا بیانیہ ہو، مگر اسی کے زیرِ اثر خطے میں ریاستی تنصیبات، نہتے مزدوروں اور عام شہریوں پر حملے ہو رہے ہوں، تو اس کی مالی ٹریل، پناہ گاہوں اور سہولت کاری کو "سیاسی مصلحت” کے نام پر مقدس کیوں سمجھا جاتا ہے؟ یہ وہ تیکھے سوالات ہیں جو اب بلوچستان کا عام شہری پوچھ رہا ہے، اور جن کے جوابات اب ٹالنے سے امن مزید دور ہوتا جائے گا۔

یہ کالم محض سفید کاغذ پر سیاہ لکیریں یا کسی عدالت کا فیصلہ نہیں، بلکہ یہ عوامی ضمیر کی وہ دبنگ آواز ہے جو اب دبائی نہیں جا سکتی۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا قانون کا شکنجہ ہمیشہ صرف کمزور اور لاچار پر ہی کسا جائے گا؟ کیا اسمبلی کی رکنیت کسی کو تلاشی، تحقیق اور احتساب سے استثنا فراہم کر دیتی ہے؟ کیا کسی کا قبائلی رتبہ ملک کے آئین اور قانون سے بڑا ہو چکا ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے، تو پھر ریاست کے عمل سے بھی یہی جھلکنا چاہیے۔ کسی بھی حویلی کو "مقدس گائے” قرار نہ دیا جائے، کسی بھی ڈیرے کو قانون کے لیے ناقابلِ رسائی نہ سمجھا جائے، اور کسی بھی نام یا عہدے کو پاکستان کے وقار سے بڑا نہ مانا جائے۔ جس دن ریاست نے یہ حوصلہ کر لیا، اس دن دہشت گردی دم توڑ دے گی۔

بیرونی سرپرستی، خصوصاً بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کا مذموم کردار اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں رہا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کے اعترافات اس کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بیرونی ہاتھ تبھی کامیاب ہوتا ہے جب اندرونی ہاتھ اس کے لیے دروازہ کھولے۔ اندرونی خلفشار، سہولت کاری اور پناہ گاہیں وہ کمزوریاں ہیں جن کا فائدہ دشمن اٹھاتا ہے۔ ان دروازوں کو مستقل طور پر بند کرنے کا واحد راستہ غیر امتیازی اور بلا امتیاز احتساب ہے۔ نیشنل ایکشن پلان (NAP) اور اب ‘عزمِ استحکام’ کا حقیقی مطلب اور روح یہی ہونی چاہیے کہ قانون کا دائرہ کار اسمبلی کے عالیشان فرش سے لے کر پہاڑ کی آخری غار تک یکساں اور موثر ہو۔

اگر ریاست واقعی اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، تو پھر اس کے اقدامات بھی اسی مناسبت سے فیصلہ کن اور جرات مندانہ ہونے چاہئیں۔ مشکوک اثاثوں کی چھان بین، بیرونِ ملک سے آنے والی فنڈنگ کی مکمل جانچ، مختلف سماجی اور سیاسی فرنٹس کے نام پر چلنے والے مشکوک نیٹ ورکس کا کڑا آڈٹ، اور ان تمام مقامات کی باریک بینی سے تلاشی جہاں سیاسی سرگرمی کے پردے میں ملک دشمن عناصر کو پناہ ملتی ہے—یہ سب اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہاں ایم این اے (MNA)، ایم پی اے (MPA)، نواب، سردار اور ایک عام شہری کے درمیان کوئی تمیز نہیں ہونی چاہیے۔ جب قانون ایک ہے، ملک ایک ہے اور آئین ایک ہے، تو پھر اس کا اطلاق بھی سب پر ایک جیسا ہی ہونا چاہیے۔

بلوچستان کے غیور اور محبِ وطن عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاست کی بے جا نرمی، غیر ضروری تاویلوں اور مصلحت پسندانہ مفاہمت کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ تلخ حقیقتوں کو تسلیم کیا جائے اور ان کا سامنا کیا جائے۔ دہشت گردی کی اصل نرسریوں اور فیکٹریوں کو بند کیے بغیر صرف شاخیں کاٹنے کا عمل کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ نوّے فیصد دہشت گرد وہاں نہیں ملتے جہاں گولیاں چلتی ہیں، بلکہ وہ وہاں پائے جاتے ہیں جہاں پالیسیاں بنتی ہیں، جہاں سے فنڈز جاری ہوتے ہیں اور جہاں پہنچ کر قانون کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔ جب تک ان اصل مراکز کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، ہر کامیاب آپریشن کے بعد ایک نیا بحران، ایک نیا گروپ اور ایک نیا المیہ جنم لیتا رہے گا۔

حرفِ آخر کے طور پر بات بالکل واضح اور دو ٹوک ہونی چاہیے۔ یہ کالم کسی خاص فرد، کسی مخصوص قبیلے یا کسی خاندان کے خلاف کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں، بلکہ یہ ریاستِ پاکستان کے حق میں اٹھایا گیا ایک سخت مگر ضروری سوالنامہ ہے۔ اس تفتیش میں اگر کسی بڑے کا نام سامنے آتا ہے تو آئے، کیونکہ پاکستان کی سالمیت سے بڑھ کر کوئی نام یا رتبہ نہیں۔ اگر ہم واقعی اس سرزمین پر امن، خوشحالی اور ترقی دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی ترجیحات اور آپریشن کا رخ بدلنا ہوگا۔ ہمیں پہاڑوں کے ساتھ ساتھ ان ڈیروں اور حویلیوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا جو اب تک خود کو "ریاست کے اندر ریاست” سمجھے بیٹھے ہیں۔ تبھی بلوچستان میں امن محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت بن سکے گا، ورنہ ہر نیا جنازہ اور ہر نیا دھماکہ ہماری اجتماعی بے عملی اور مصلحت پسندی کی گواہی دیتا رہے گا اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے