نیویارک (کیو این این ورلڈ) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پاکستان کے لیے کسی صورت قبول نہیں، افغان طالبان اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دہشت گرد حملوں میں 80 سے زائد بے گناہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور ان تمام واقعات کی منصوبہ بندی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گرد گروہوں کا یہ تسلسل خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

عاصم افتخار احمد نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اس بات کی ضمانت دے کہ ان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ انہوں نے عالمی برادری کو بھی متوجہ کیا کہ وہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے کیونکہ سرحد پار دہشت گردی نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ عالمی امن کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے افغانستان میں جاری انسانی بحران، معاشی بدحالی اور خواتین کے حقوق پر عائد پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ سرحد پار سے سرگرم عناصر مسلسل پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کا تدارک کیے بغیر خطے میں استحکام ممکن نہیں۔ پاکستان نے عالمی فورم پر واضح پیغام دیا ہے کہ افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور افغان طالبان کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے