کراچی (کیو این این ورلڈ) جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو پوری امتِ مسلمہ کا نقصان قرار دیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرا دکھ اور افسوس ہے، یہ سانحہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے صدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں رجیم چینج کی بات کرنا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کسی خودمختار ملک کی قیادت کو ٹارگٹ کرنا بدترین ریاستی دہشتگردی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا کی تاریخ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے بھری پڑی ہے اور ایران کے خلاف بلااشتعال کارروائی قابلِ مذمت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایک بار پھر خود کو دہشتگرد ریاستیں ثابت کیا ہے، یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور معصوم بچیوں تک کو نشانہ بنایا گیا۔
پاک افغان کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تناؤ کے خاتمے کے لیے عالمِ اسلام کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرزمین سازشوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور افغانستان کو سمجھنا چاہیے کہ بھارت کبھی اس کا مخلص دوست نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے زور دیا کہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک کو قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے۔