تہران (کیو این این ورلڈ) ایرانی میڈیا نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق انہیں دفتر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان کے بیٹے، بہو اور نواسی کے بھی شہید ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے 40 سے زائد اعلیٰ حکام بھی حملوں میں مارے گئے۔

ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای، جو 1989 سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ تھے اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد منصب سنبھالا تھا، حملے کے وقت اپنے دفتر میں موجود تھے۔ حکومت نے ان کی شہادت پر سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ شہادت کا بدلہ لیا جائے گا اور اسرائیلی و امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے آخری خطاب میں شہادت کی دعا کی تھی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ رہبرِ اعلیٰ کی شہادت ایک عظیم جرم ہے اور ذمہ داران کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کا قتل اسلامی دنیا کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا، ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ذمہ دار عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور صہیونی قوتوں کو اس اقدام کی قیمت چکانا ہوگی۔ قومی اتحاد اور عوامی حمایت سے مضبوط ردعمل دیا جائے گا اور مجرموں و منصوبہ سازوں کو اپنے اقدام پر پچھتانا پڑے گا۔ ایرانی صدر کے مطابق اسلامی دنیا اس واقعہ کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے