اسلام آباد/لاہور (کیو این این ورلڈ) حکومتِ پاکستان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اور حکومتِ پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے بھارتی ریاست مغربی بنگال میں ‘نیپاہ وائرس’ (NiV) کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیشِ نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این آئی ایچ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق، جنوری 2026 میں مغربی بنگال کے علاقے میں نیپاہ وائرس کے متعدد کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں کولکتہ کے طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اس وائرس کی ہلاکت خیزی کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہے، جس کے باعث اسے عالمی سطح پر انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔

جاری کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق، نیپاہ وائرس ایک ایسی بیماری ہے جو جانوروں (بالخصوص چمگادڑوں اور خنزیروں) سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے اور پھر انسانوں سے انسانوں میں بھی پھیل سکتی ہے۔ اس کی علامات میں تیز بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، قے اور گلے کی سوزش شامل ہے، جو بگڑنے کی صورت میں دماغی سوزش (Encephalitis)، غنودگی اور دورے پڑنے کا سبب بن کر مریض کو 24 سے 48 گھنٹوں میں کومہ میں دھکیل سکتی ہے۔ اس وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ عام طور پر 4 سے 14 دن ہوتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں یہ 45 دن تک بھی طویل ہو سکتا ہے۔

حکومتِ پنجاب نے اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے تمام طبی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، میڈیکل کالجز کے پرنسپلز اور ٹیچنگ ہسپتالوں کے ایم ایس حضرات کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ او پی ڈی، ایمرجنسی اور ان ڈور وارڈز میں آنے والے مشتبہ مریضوں کا ڈیٹا باقاعدگی سے رپورٹ کریں۔ وفاقی ایڈوائزری میں تمام صوبائی محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر مخصوص ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز قائم کریں، تشخیصی لیبارٹریوں کی صلاحیت میں اضافہ کریں اور ریپڈ رسپانس ٹیموں کو فعال کریں۔ حکام نے متاثرہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ اور بارڈر مینجمنٹ کو مزید سخت کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ اس مہلک وائرس کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے