سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف مدثر رتو) تھانہ صدر کے گاؤں چاہل میں قرآن مجید کی تعلیم دینے والے قاری حق نواز پر دورانِ سبق قاتلانہ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ قاری حق نواز 27 فروری کی صبح حسبِ معمول فجر کی نماز کے بعد مسجد کے صحن میں بچوں کو قرآن مجید پڑھا رہے تھے کہ گاؤں کے ہی ایک رہائشی مرتضیٰ عرف موتی نے اچانک تیز دھار آلے سے ان پر حملہ کر دیا۔

عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق ملزم مرتضیٰ نے قاری صاحب کے سر پر پے در پے وار کیے، جس سے وہ شدید زخمی ہو کر گر پڑے۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر وہاں موجود بچوں نے خوف کے مارے چیخ و پکار شروع کر دی، جس پر ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ مقامی افراد نے فوری طور پر زخمی قاری حق نواز کو سول ہسپتال سیالکوٹ منتقل کیا، جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ گزشتہ روز انتقال کر گئے۔

ابتدائی تفتیش اور مقامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، اس قتل کے پیچھے کوئی دیرینہ فرقہ وارانہ یا مذہبی تنازع نہیں بلکہ بظاہر ذاتی رنجش یا ملزم کی ذہنی کیفیت بتائی جا رہی ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ ملزم مرتضیٰ عرف موتی کا رویہ اکثر جارحانہ رہتا تھا، تاہم پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا اس حملے کے پیچھے کوئی چھپا ہوا ذاتی تنازع یا اشتعال انگیزی تو موجود نہیں تھی۔

تھانہ صدر پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے تھے اور ملزم کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کیا تھا، جو اب قاری حق نواز کی وفات کے بعد قتل کی دفعہ 302 میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ ڈی پی او سیالکوٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ او کو ملزم کی فوری گرفتاری اور مقتول کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے