سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف مدژر رتو کی رپورٹ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) گوجرانوالہ زون کے ڈائریکٹر محمد بن اشرف نے سیالکوٹ میں کھلی کچہری کے موقع پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کے انعقاد کا بنیادی مقصد سائلین کے دہلیز پر پہنچ کر ان کے مسائل سننا اور انہیں فوری انصاف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچہری میں شہریوں کے مختلف نوعیت کے مسائل سنے گئے اور ان کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ادارے پر ورک لوڈ بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات انکوائری کے عمل میں وقت درکار ہوتا ہے، تاہم محکمہ عوام کو بروقت ریلیف دینے کے لیے پوری تندہی سے کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئے ڈی جی ایف آئی اے کی تعیناتی کے بعد محکمانہ کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جلد ہی تھانوں میں مزید عملہ تعینات کیا جائے گا تاکہ سائلین کی درخواستوں پر کارروائی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔

محمد بن اشرف نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر آگاہی مہم کے بعد 100 سے زائد سائلین کھلی کچہری میں پہنچے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سب سے زیادہ کیسز انسانی اسمگلنگ اور ویزہ فراڈ سے متعلق موصول ہو رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ ویزہ فراڈ سے بچنے کے لیے غیر مستند ایجنٹوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر ایف آئی اے کو مطلع کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی سہولت کے لیے ایک ہزار سے زائد کیسز گوجرانوالہ سے سیالکوٹ منتقل کیے جا چکے ہیں تاکہ مقامی سطح پر ان کا جلد فیصلہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایف آئی اے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے