سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹر حسنین راجہ)صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے پسرور کے علاقے بڈیانہ میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں زیرِ تعمیر کلاس روم کا شیڈ گرنے سے آٹھویں جماعت کی طالبہ کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعہ کا سخت نوٹس لے لیا۔ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر فوری طور پر سیالکوٹ پہنچے اور جائے حادثہ کا دورہ کیا۔

سکول پہنچنے پر صوبائی وزیر کو واقعہ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیکرٹری سکول ایجوکیشن مدثر حیات ملک، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی اور اسسٹنٹ کمشنر پسرور سدرہ ستار بھی موجود تھیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے حادثے کی وجوہات اور ابتدائی تحقیقات سے آگاہ کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ ذمہ داران کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سی ای او ایجوکیشن اور سکول پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ کنٹریکٹر اور متعلقہ انجینئر کو بھی گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سی ای او ایجوکیشن نے دو روز قبل سکول کا دورہ کیا تھا، تاہم مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے، جو سنگین غفلت ہے۔ مزید بتایا گیا کہ متاثرہ طالبہ کو ایک گھنٹہ تاخیر سے ہسپتال منتقل کیا گیا، جس کی بھی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ جاں بحق طالبہ ان کی اپنی بیٹی جیسی تھی اور اس سانحہ پر انہیں دلی رنج ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاندان نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا ہے، تاہم قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری رہیں گی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر نے جائے حادثہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں زیرِ تعمیر منصوبوں کا فوری حفاظتی آڈٹ کیا جائے اور تعمیراتی کام کے دوران طلبہ و طالبات کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

صوبائی وزیر نے جاں بحق طالبہ کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم نے مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے