سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹرحسنین راجہ) تحصیل پسرور کے نواحی گاؤں سرائے شاہ فتاح میں واقع گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول گزشتہ 25 برس سے بند پڑا ہے، جس کی وجہ سے عمارت مکمل طور پر کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہے۔

عرصہ دراز سے جاری عدم توجہی کے باعث نامعلوم چور سکول کے قیمتی دروازے اور کھڑکیاں تک اکھاڑ کر لے گئے ہیں، جبکہ سکول کے اندرونی حصے میں خود رو جھاڑیاں، کوڑا کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ گاؤں میں لڑکوں کے لیے کوئی دوسرا سرکاری تعلیمی ادارہ موجود نہیں، جس کی وجہ سے بچوں کو تعلیم کے لیے دور دراز دیہات یا پسرور شہر جانا پڑتا ہے، جس کے سفری اخراجات غریب والدین کی پہنچ سے باہر ہیں۔

مقامی شہریوں نے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کی عمارت کی فوری مرمت کروا کر وہاں اساتذہ تعینات کیے جائیں تاکہ بچوں کا تعلیمی مستقبل ضائع ہونے سے بچ سکے۔

اہل دیہہ نے اس سکول کو پرائمری سے مڈل یا ہائی کا درجہ دینے کی اپیل بھی کی ہے تاکہ علاقے کے بچے اپنے ہی گاؤں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں اور شرح خواندگی میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے