سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ بیوروچیف مدثر رتو ) شہرِ اقبال کے علاقے مراد پور میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ماں اور بیٹے کے مقدس رشتے کو داغدار کر دیا ہے۔ ایک ماں نے ممتا کے رشتے کو پامال کرتے ہوئے اپنے ہی بیٹے کے گھر میں نقب لگائی اور لاکھوں روپے نقدی سمیت سونا چوری کر کے اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی۔
تھانہ مراد پور کی حدود میں پیش آنے والی اس انوکھی واردات میں ماں، مسمات مبین بی بی نے اپنے بیٹے محمد سعد منیب اسلم کی دکان پر کام کرنے والے سیلزمین ذوہیب کے ساتھ مل کر 35 لاکھ روپے نقدی اور 5 تولے سونا چوری کر لیا۔ پولیس نے مدعی کی درخواست پر ایف آئی آر (FIR) نمبر MDP-03/04/2026-1894 درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مدعی محمد سعد منیب اسلم نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ 27 اور 28 مارچ 2026 کی درمیانی رات وہ ایک فوتگی پر فاتحہ خوانی کے لیے گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ اسی دوران اس کی ماں مبین بی بی نے موقع پا کر سیلزمین ذوہیب کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا اور گھر میں موجود زندگی بھر کی جمع پونجی سمیٹ لی۔
بیٹے کے مطابق جب وہ فاتحہ خوانی سے واپس گھر پہنچا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ گھر کا تالا کھلا ہوا تھا اور الماریاں خالی پڑی تھیں۔ گھر سے 35 لاکھ روپے کی خطیر رقم اور 12 لاکھ روپے مالیت کا 5 تولے سونا غائب تھا۔ محمد سعد نے الزام عائد کیا کہ اس کی ماں کے مذکورہ سیلزمین کے ساتھ ناجائز مراسم تھے اور دونوں نے مل کر اس گھناؤنی واردات کی منصوبہ بندی کی تھی۔
پولیس نے مدعی کے بیان کی روشنی میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 380 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان واردات کے بعد روپوش ہو چکے ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس ملزمان کے موبائل فون ڈیٹا اور دیگر تکنیکی ذرائع سے ان کی لوکیشن معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس لرزہ خیز واقعے نے پورے علاقے میں تشویش اور حیرت کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی لوگ اس بات پر انگشت بدنداں ہیں کہ ایک ماں کس طرح اپنے بیٹے کے گھر میں ڈاکا ڈال سکتی ہے اور غیر مرد کے ساتھ مل کر اس کا مستقبل برباد کر سکتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔