امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ میں واقع آئیوی لیگ کی معروف براؤن یونیورسٹی اس وقت خوف و ہراس کا منظر پیش کرنے لگی جب امتحانات کے دوران ایک نامعلوم شخص نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ واقعے میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ آٹھ شدید زخمی ہو گئے، جن میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق فائرنگ یونیورسٹی کی انجینئرنگ اور فزکس کی سات منزلہ عمارت ’’بارس اینڈ ہولی‘‘ میں اس وقت ہوئی جب طلبہ فائنل امتحانات میں مصروف تھے۔ اچانک گولیوں کی آوازوں سے عمارت میں افراتفری مچ گئی اور طلبہ و اساتذہ جان بچانے کے لیے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔

ایک طالب علم نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ شدید خوف کے باعث تقریباً دو گھنٹے تک میز کے نیچے چھپا رہا، یہاں تک کہ پولیس نے عمارت کو کلیئر کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور سیاہ لباس میں ملبوس ایک مرد تھا جو فائرنگ کے بعد پیدل ہی فرار ہو گیا، تاہم تاحال نہ تو کوئی ہتھیار برآمد ہو سکا ہے اور نہ ہی ملزم کو گرفتار کیا جا سکا ہے۔

تمام زخمیوں کو روڈ آئی لینڈ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اسپتال انتظامیہ کے مطابق چھ افراد نازک مگر مستحکم حالت میں ہیں، ایک کی حالت تشویشناک جبکہ ایک زخمی کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

واقعے کے بعد یونیورسٹی اور اطراف کے علاقوں میں گھروں کے اندر رہنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ڈور بیل کیمروں اور سیکیورٹی فوٹیج کا جائزہ لیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واقعے پر بریفنگ دے دی گئی ہے۔ صدر نے کہا کہ متاثرین کی حالت نہایت تشویشناک ہے اور اس مشکل گھڑی میں دعا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سوشل میڈیا پر متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔

ایف بی آئی، اے ٹی ایف اور یو ایس سیکرٹ سروس سمیت وفاقی ادارے مقامی پولیس کے ساتھ مل کر تحقیقات اور سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ براؤن یونیورسٹی امریکا کے قدیم ترین اور معتبر تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے، تاہم اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر امریکا میں تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے