اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں حالیہ عام انتخابات میں ان کی جماعت کی شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلادیشی عوام کو کامیاب اور جمہوری طریقے سے انتخابات کے انعقاد پر بھی تہنیتی پیغام دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوطرفہ تعاون اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔ وزیراعظم نے طارق رحمان کو جلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے میں امن و ترقی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور طارق رحمان نے سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کی پاک بنگلادیش تعلقات کی بہتری کے لیے انجام دی گئی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں مسلسل رابطے میں رہنے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان بنگلادیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اقتصادی و تجارتی شعبوں میں مزید مضبوطی کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب بنگلادیش کے الیکشن کمیشن نے پارلیمانی انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے کلین سویپ کیا ہے۔ 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں حاصل کر کے واضح برتری حاصل کی، جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف تحریک میں نمایاں رہنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی صرف 5 نشستیں حاصل کر سکی۔ یاد رہے کہ ایک نشست پر امیدوار کے انتقال کے باعث انتخاب ملتوی کر دیا گیا تھا۔
بی این پی کے وزیراعظم کے امیدوار طارق رحمان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ سیاسی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ان کی جماعت نے کارکنوں کو جشن منانے کے بجائے سجدہ شکر ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی نے بعض حلقوں میں الیکشن کمیشن کی جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے، تاہم ان کے رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے تعمیری سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ عالمی مبصرین اس انتخابی نتیجے کو بنگلادیش کی سیاست میں ایک بڑے اور تاریخی موڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔