پشاور(ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بدنصیبی ہے کہ ملک کے آئینی سربراہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے پشاور پریس کلب میں تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گورنر راج قانون میں انتہائی قدم ہے اور اگر یہاں گورنر راج لگایا گیا تو تمام صوبوں میں بھی ایسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وفاق اور صوبہ کو ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہیے اور سیاست کا مقصد کرسی نہیں بلکہ ملک کی فلاح اور عوام کی خدمت ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ آئین و قانون کی پاسداری ہے اور نوجوان ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، جو تعلیم، روزگار اور کاروباری مواقع چاہتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جہاں سیاسی استحکام نہیں ہوگا وہاں سرمایہ کاری بھی نہیں ہوگی اور ہماری جماعت واحد ہے جو ملک میں مسائل کے حل کی بات کرتی ہے، جبکہ دیگر جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جوڑنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور نوجوان بھی اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اقتدار یا کرسی کی بات نہیں، ملک کے مسائل حل کرنا اور ایک دوسرے کا احترام کرنا سب پر فرض ہے۔ 27 ویں آئینی ترامیم کو پاکستان کے سیاستدانوں کے لیے کالا دھبہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا وقت آئے گا جب تمام جماعتیں ان ترامیم کو واپس لانے کی کوشش کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی طاقت ہی اہم ہے اور کسی کی کرسی یا اسٹبلشمنٹ سے آنے والوں کو ترقی دینے کی روش نظام میں بگاڑ پیدا کرتی ہے، اس لیے معاشرتی اور دینی لحاظ سے ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔