اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) سینیٹ آف پاکستان نے مغربی سرحد پر افغانستان کی مبینہ جارحیت کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کر لی، جس میں عالمی برادری سے افغانستان کے غیر سنجیدہ رویے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے اور قومی وقار و خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایوان نے واضح کیا کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب متناسب اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا، جبکہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی دفاع کے لیے پوری قوم متحد ہے۔
قرارداد میں پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ افواجِ پاکستان ہر دور میں وطن کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
ایوان نے اس امر کی نشاندہی کی کہ گزشتہ چالیس برسوں سے پاکستان کو غیر معمولی سماجی، معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ افغانستان کی جانب سے سرحد پار دراندازی اور پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کی موجودگی دوطرفہ مفاہمت کے برخلاف ہے، لہٰذا افغانستان فوری طور پر تمام معاندانہ اقدامات روکے اور اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
قرارداد میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری اور خطے میں استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے ملک کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ملک پر بات آئے گی تو ہم سب متحد ہو کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی مذمت کافی نہیں، بلکہ اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی تشکیل ناگزیر ہے، جس میں خطے کے تمام متعلقہ ممالک شامل ہوں تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے دہشت گردی کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے حالیہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اجلاس پیر کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیا۔