نیویارک (کیو این این ورلڈ) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں روسی مندوب نے امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کونسل کی کارروائی کو سرکس قرار دے دیا ہے۔ روسی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران کے اندرونی معاملات پر اس طرح کا اجلاس بلانا انتہائی شرمناک عمل ہے، کیونکہ سلامتی کونسل کا پلیٹ فارم عالمی امن و استحکام کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے لیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بیرونی قوتیں ایران کے موجودہ حالات کو مزید بگاڑنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہی ہیں۔
روسی مندوب نے خطاب کے دوران مزید کہا کہ شہریوں کی جان و مال اور املاک کا تحفظ کرنا ایرانی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے ایرانی عوام کو سرکاری اداروں پر قبضے کے لیے اکسایا جا رہا ہے جو کہ کسی بھی خود مختار ملک کی سالمیت کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی حمایت میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں، جو کہ عوامی تائید کا واضح ثبوت ہے۔
روسی وفد نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائیاں اور اس قسم کے اشتعال انگیز بیانات پورے خطے کو مزید سنگین بحران کا شکار کر دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی صورتحال محض ایک داخلی مسئلہ ہے اور عالمی اداروں کو اسے سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس موقع پر روس کی جانب سے تمام مسائل کے پرامن حل کے لیے تعاون کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ خطے کے استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔