نیویارک (کیو این این ورلڈ) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں چینی مندوب نے امریکہ کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی کوششیں فوری طور پر ترک کرے، کیونکہ چین دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف دھکیلنے کے کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔ سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے چینی مندوب نے تشویش کا اظہار کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی مسلسل دھمکیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، جو عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

چینی مندوب نے واضح کیا کہ چین کسی بھی خود مختار ملک کی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف ہے اور بیجنگ کی یہ خواہش ہے کہ تمام مسائل کا حل اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور طے شدہ بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہ کر تلاش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور وہاں کے عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے، لہٰذا عالمی برادری کو ایران کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مداخلت کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

دریں اثناء، سفارتی محاذ پر بھی چین نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جہاں چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران چینی وزیرِ خارجہ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایرانی حکومت اور عوام متحد ہو کر موجودہ تمام مشکلات اور بیرونی دباؤ پر قابو پا لیں گے، جبکہ انہوں نے اس مشکل گھڑی میں ایران کے لیے چین کی بھرپور حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے